تازہ ترین

کراچی واٹر کارپوریشن اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے درمیان معاہدہ، گھارو اور پپری پمپنگ اسٹیشنز کی جدید کاری کا آغاز

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دورہ چین، ہائینان کی قیادت سے ملاقات، اقتصادی تعاون اور پاک چین تعلقات کے فروغ پر اتفاق

کراچی میں ٹریفک کی بہتری کیلئے بڑا اقدام، ٹریفک پولیس نے “ٹریفک فلو یونٹ (TFU)” قائم کر دیا

وفاقی حکومت کے شہری سہولت اقدامات، نارمل پاسپورٹ 21 سے کم ہو کر 14 دن میں جاری ہوگا، مکمل کیش لیس نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

ڈی آئی جی ایسٹ زون کراچی سے الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، امن و امان اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے پر تبادلہ خیال

شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کیس میں اہم پیش رفت، اے وی سی سی/سی آئی اے کراچی کی کارروائی، دو ملزمان گرفتار

ضلع سینٹرل پولیس کی بڑی کارروائیاں، گٹکا فروش، منشیات اور اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

ضلع وسطی میں گراں فروشی کے خلاف کارروائیاں تیز، 20 دکانداروں پر جرمانے عائد

دبئی میں پراپرٹی ویزا قوانین میں نرمی، سرمایہ کاروں کیلئے نئے رہائشی مواقع

بنگلورو میں 40 منٹ کی موسلادھار بارش، نظام زندگی مفلوج، 10 افراد ہلاک

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا کوہ نور ہیرے کی واپسی سے متعلق بیان، برطانیہ سے بات کرنے کا عندیہ

سندھ حکومت نے آبی اصلاحات اور آبپاشی نظام کی جدیدکاری کے اقدامات تیز کر دیے

پاکستان

وفاقی حکومت کے شہری سہولت اقدامات، نارمل پاسپورٹ 21 سے کم ہو کر 14 دن میں جاری ہوگا، مکمل کیش لیس نظام متعارف کرانے کا فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں شہریوں کو پاسپورٹ کے اجرا کے نظام میں سہولت دینے کے لیے متعدد بڑے فیصلے کیے گئے۔

کراچی

کراچی واٹر کارپوریشن اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے درمیان معاہدہ، گھارو اور پپری پمپنگ اسٹیشنز کی جدید کاری کا آغاز

کراچی (اسٹاف رپورٹر) — کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں بین الاقوامی تعاون کے ایک نئے دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت شہر کے پانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

تجارت

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

کھیل

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!