...

تازہ ترین

یو اے ای کا اوپیک اور اوپیک پلس سے تاریخی انخلا، عالمی تیل مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کا آغاز

امریکا نے ایران سے منسلک 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پاکستان کی معاشی کوششوں کو دھچکا، تیل کا درآمدی بل 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا: وزیراعظم

تعلیمی بورڈز میں نتائج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا انکشاف، اینٹی کرپشن کی کارروائیاں تیز

کراچی میں تجاوزات کا جن بے قابو، شہریوں کو ٹریفک، وقت اور ایندھن کے دہرے عذاب کا سامنا

Wednesday, 29th April 2026

ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی میں پولیس کی بڑی کارروائیاں، گٹکا، اسلحہ اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث متعدد ملزمان گرفتار

ناردرن بائی پاس مویشی منڈی میں ’ببلو‘ کی دھوم، 30 ہزار جانور پہنچ گئے

آئی جی سندھ کا لاڑکانہ و سکھر میں امن و امان اجلاس، منشیات کے خلاف سخت ایکشن کی ہدایت

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا ایس بی سی اے کے اعلیٰ افسران کے خلاف بڑا ایکشن

کراچی میں گیس لوڈشیڈنگ: شہریوں کا خطرناک متبادل، غباروں میں گیس بھر کر استعمال شروع

پی آئی اے کی مکمل نجکاری مکمل، عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کر لیے

پاکستان

مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پاکستان کی معاشی کوششوں کو دھچکا، تیل کا درآمدی بل 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ نے پاکستان کی گزشتہ دو سالہ معاشی کاوشوں کو شدید متاثر کیا ہے اور ملکی معیشت پر اس کے براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

کراچی

ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی میں پولیس کی بڑی کارروائیاں، گٹکا، اسلحہ اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث متعدد ملزمان گرفتار

کراچی: Sindh Police کے ڈسٹرکٹ سینٹرل ویسٹ زون نے مختلف تھانوں کی حدود میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

تجارت

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

کھیل

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.