پاکستانی عوام اور اشرافیاں

تحریر۔ عقیل اختر

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بار بار آئی لیکن مکمل طور پر مضبوط نہ ہو سکی۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر نظام تبدیل نہ ہوا۔ عوام ووٹ دیتے رہے، مگر فیصلے اکثر وہی لوگ کرتے رہے جو طاقت کے مراکز کے قریب تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کا ووٹ بھی ان کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا رہا۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی رائے کا اثر نہیں ہو رہا تو وہ خود کو بے بس سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی احساس وقت کے ساتھ بڑھتا گیا اور عوام میں مایوسی پیدا ہونے لگی۔اسی دوران صوبوں میں بھی احساس محرومی پیدا ہوا۔ جب ترقی چند علاقوں تک محدود ہو جائے اور وسائل کی تقسیم غیر متوازن نظر آئے تو فطری طور پر محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ بلوچستان میں یہ شکایت سامنے آئی کہ وہاں وسائل موجود ہیں مگر ترقی نہیں ہو رہی۔ سندھ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کے وسائل کا فائدہ دوسرے علاقوں کو ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی یہی بات کہی گئی کہ ان کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں صوبائی اختلافات بڑھنے لگے اور عوام نے مسئلے کو صوبائیت کے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا۔لیکن اگر اس مسئلے کو مزید گہرائی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پنجاب کے اندر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ پنجاب کے چند بڑے شہر ضرور ترقی یافتہ ہوئے مگر دیہی علاقے آج بھی پسماندگی کا شکار ہیں۔

جنوبی پنجاب میں غربت، تعلیم کی کمی اور بنیادی سہولیات کی قلت واضح نظر آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کے عام لوگ بھی اسی نظام کا شکار ہیں جس کا شکار باقی صوبوں کے عوام ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ طاقت کے ارتکاز کا ہے۔پاکستان میں اشرافیہ کا نظام اس لیے بھی مضبوط رہا کیونکہ یہ طبقہ صرف سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ معیشت، بیوروکریسی اور سماجی اثر و رسوخ میں بھی موجود رہا۔ یہ لوگ سیاست میں بھی شامل رہے، کاروبار میں بھی آگے رہے اور ریاستی اداروں تک بھی ان کی رسائی رہی۔ اس طرح انہوں نے ایک ایسا نظام قائم کیا جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ عام آدمی اس نظام میں جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کرتا رہا مگر اکثر ناکام رہا۔اس نظام کی ایک بڑی خصوصیت یہ رہی کہ قانون اور آئین کی تشریح بھی اکثر طاقتور طبقے کے مفاد کے مطابق ہوتی رہی۔ جب طاقتور طبقے کو فائدہ ہوتا تو قانون نرم نظر آتا، اور جب عام آدمی کے خلاف کارروائی ہوتی تو قانون سخت نظر آتا۔ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں۔ جب عوام کو انصاف نہ ملے تو ان کا اعتماد کمزور ہو جاتا ہے اور وہ خود کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کی کمزوری کی ایک وجہ تعلیم کی کمی بھی رہی۔ جب عوام میں شعور کم ہو تو وہ اپنے حقوق کے لیے منظم انداز میں جدوجہد نہیں کر پاتے۔ اسی وجہ سے طاقتور طبقہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔

معاشی مشکلات نے بھی عوام کو کمزور رکھا۔ جب لوگ اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل میں الجھے رہیں تو وہ بڑے سیاسی اور سماجی مسائل پر توجہ نہیں دے پاتے۔ اس طرح اشرافیہ کا نظام قائم رہتا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا نے عوام میں شعور پیدا کیا ہے۔ اب لوگ سوال کرتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب زیادہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مسئلہ صرف صوبوں کا نہیں بلکہ طاقت کے غیر منصفانہ نظام کا ہے۔ عوام یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ جب تک طاقت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی، ترقی بھی محدود رہے گی اور احساس محرومی بھی ختم نہیں ہوگا۔پاکستان ایک بڑا ملک ہے۔ یہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور قومیتیں آباد ہیں۔ یہ ملک کی طاقت ہے، کمزوری نہیں۔ مگر جب وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہو اور طاقت چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے تو یہ مسثلہ اختلافات میں بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں اور عوام میں بداعتمادی بڑھتی ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے، مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔یہ بھی ضروری ہے کہ عوام کو تعلیم دی جائے، معاشی مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ جب عوام مضبوط ہوں گے تو اشرافیہ کا نظام خود بخود کمزور ہو جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوام منظم ہوئے ہیں، بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی ممکن ہے اگر عوام اپنے مسائل کو سمجھیں اور متحد ہو کر ان کا حل تلاش کریں۔آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صوبائیت نہیں بلکہ اشرافیہ کا غلبہ ہے۔ یہ اشرافیہ ہر صوبے میں موجود ہے اور عام عوام ہر جگہ اس نظام سے متاثر ہیں۔ جب تک طاقت چند ہاتھوں میں رہے گی، احساس محرومی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن اگر طاقت عوام تک منتقل ہو جائے تو پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک بن سکتا ہے۔ پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں، اور جب عوام مضبوط ہوں گے تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان کو بہتر مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

One thought on “پاکستانی عوام اور اشرافیاں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!