حکومت سندھ نے صوبے میں آبی شعبے کی اصلاحات اور آبپاشی نظام کی جدید کاری کے اقدامات کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر آبپاشی و منصوبہ بندی Jam Khan Shoro کی صدارت میں ورلڈ بینک کے SWAT منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
کراچی میں غیر قانونی ٹریول ایجنسی پر ایف آئی اے کا چھاپہ، ملزم گرفتار
اجلاس میں World Bank کے وفد نے شرکت کی، جس میں ٹاسک ٹیم لیڈر فرانسوا اونی مس، سینئر واٹر ریسورسز اسپیشلسٹ زیلالم میکنن اور سینئر واٹر ریسورسز مینجمنٹ اسپیشلسٹ ہیبا احمد شامل تھے۔ اس کے علاوہ سیڈا کے ایم ڈی منصور میمن، پی سی ایم یو کے نذیر احمد اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
ورلڈ بینک کے وفد نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر کو SWAT منصوبے کی مجموعی پیشرفت، حاصل ہونے والی کامیابیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں سندھ کے جامع واٹر پلان کی تشکیل، نئے واٹر لا کی تیاری، پانی کی منصفانہ تقسیم اور ضیاع میں کمی جیسے اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، نہروں کی مرمت اور آبپاشی نظام کی جدیدکاری کے اقدامات بھی زیر بحث آئے، جبکہ کسانوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ سندھ بیراجز امپروومنٹ منصوبے کے تحت گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر گیٹس کی تبدیلی کا کام تیزی سے جاری ہے، جس سے پانی کی ترسیل کا نظام مزید مؤثر اور مستحکم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت آبی شعبے میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ زراعت، معیشت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار آبی انتظام کے ذریعے سندھ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
