تحریر :- عمران گجر
پرانے بزرگ کہا کرتے تھے کہ "اللہ بچوں کی دعا بہت جلد سنتا ہے”۔ یہ بات سچ بھی لگتی ہے کیونکہ کراچی میں پچھلے کئی دنوں سے بارشوں کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ایک طرف حکومت کے انتظامی اقدامات، سیلابی صورتحال اور ندی نالوں کا ابلنا ہے، تو دوسری طرف معصوم بچوں کی دعائیں ہیں: "اللہ میاں بارش ہو جائے، اسکول کی چھٹی ہو جائے، کوچنگ نہ جانا پڑے، ٹیوشن سے بھی نجات مل جائے”۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مری کے تعلیمی اداروں کا دورہ، طلبا اور اساتذہ سے خصوصی نشست
یوں لگتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ ان بچوں کی معصوم دعاؤں کے قریب ہو کر سنتا ہے اور پھر بارش برسا دیتا ہے۔ اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ سوشل میڈیا ہر بارش کو اس طرح پیش کرتا ہے جیسے صرف اسکول ہی ڈوبنے والے ہوں۔ اور پھر چند ہی گھنٹوں میں چھٹی کا نوٹیفکیشن آجاتا ہے۔
مگر اس کے برعکس ان لوگوں کی دعائیں شاید قبول نہیں ہوتیں جو جھوٹ بولتے ہیں، کم تولتے ہیں، حرام خوری کرتے ہیں اور حسد میں زندگی گزارتے ہیں۔ وہ بھی بچوں سے مقابلہ کرتے ہیں کہ "ہماری دعا کیوں نہیں سنی جا رہی”۔
یاد آتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو ہماری دعائیں بھی قبول ہوتی تھیں، لیکن اس وقت سوشل میڈیا نہیں تھا اور ماں باپ کے سامنے کوئی نوٹیفکیشن نہیں چلتا تھا۔ نتیجہ یہ کہ بارش ہو یا آندھی، وہ ہمیں زبردستی اسکول چھوڑ ہی آتے تھے۔
اس لیے سچ یہی ہے کہ اصل جہاں اور ہے اور سوشل میڈیا کا جہاں اور۔ ندی نالوں میں بہنے والے اور سیلاب میں پھنسے لوگ جتنی بھی دعائیں مانگیں، وہ پوری ہونی نہیں کیونکہ ان معصوم بچوں کی دعاؤں نے اللہ کے حضور پہلی صف سنبھال رکھی ہے:
"اللہ میاں بارش ہو جائے، اسکول کی چھٹی ہو جائے”۔
بچے واقعی من کے سچے ہیں
