تازہ ترین

اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال اور امن و استحکام پر تبادلۂ خیال

ایران کی نئی سفارتی پیشکش، امریکا کو پابندیوں میں نرمی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز

دی راک کو کیلیفورنیا میں ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر چالان، گاڑی کے ٹینٹڈ شیشے وجہ بن گئے

پی ایس ایل: حیدرآباد کنگزمین کے فاسٹ بولر محمد علی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد

سعودی عرب کی حج کے لیے نئی عمر پابندی نافذ، 15 سال سے کم عمر بچوں کے حج پر جانے پر پابندی

پاکستان کا 60 کروڑ ڈالر کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام تاخیر کا شکار، عالمی بینک نے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کر دی

وزیراعلیٰ سندھ کا جیکب آباد میں گدھے پر تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس، قانونی کارروائی کی ہدایت

شمالی وزیرستان میں قبائل اور فتنہ الخوارج کے درمیان جھڑپ، 5 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری جاں بحق

باجوڑ میں کرکٹ گراؤنڈ پر کواڈ کاپٹر حملہ، فتنہ الخوارج کی کارروائی میں 3 افراد زخمی

سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں 25 ارب روپے کی مبینہ خرد برد کا انکشاف، ٹریڈ یونینز کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ڈیفنس میں اسنیپ چیکنگ کے دوران خاتون پولیس افسر کا بیٹا مشتعل، اہلکاروں سے بدتمیزی کی ویڈیو وائرل، گرفتار

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف کارروائی تیز، لاکھوں روپے تنخواہیں لینے کا انکشاف

پاکستان

سعودی عرب کی حج کے لیے نئی عمر پابندی نافذ، 15 سال سے کم عمر بچوں کے حج پر جانے پر پابندی

سعودی عرب کی حج کے لیے نئی عمر پابندی نافذ، 15 سال سے کم عمر بچوں کے حج پر جانے پر پابندی

کراچی

وزیراعلیٰ سندھ کا جیکب آباد میں گدھے پر تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس، قانونی کارروائی کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ کا جیکب آباد میں گدھے پر تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس، قانونی کارروائی کی ہدایت

تجارت

پاکستان کا 60 کروڑ ڈالر کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام تاخیر کا شکار، عالمی بینک نے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کر دی

پاکستان کا 60 کروڑ ڈالر کا مالیاتی اصلاحاتی پروگرام تاخیر کا شکار، عالمی بینک نے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کر دی

کھیل

پی ایس ایل: حیدرآباد کنگزمین کے فاسٹ بولر محمد علی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد

پی ایس ایل: حیدرآباد کنگزمین کے فاسٹ بولر محمد علی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!