...

تازہ ترین

امریکا کی ایران سے منسلک اسلحہ نیٹ ورک پر نئی پابندیاں

امارات کو بیرونی مالی مدد کی ضرورت نہیں، معیشت مضبوط ہے: یوسف العتیبہ

پیک ٹائم میں بجلی کی فراہمی بہتر، شارٹ فال میں نمایاں کمی

پہلگام واقعہ فالس فلیگ آپریشن تھا، بھارت شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا عطا تارڑ

پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں روپے کی منظم چوری کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

سندھ پولیس افسران کی رینک پننگ تقریب، 17 افسران کو ترقی کے بیجز لگا دیے گئے

آئی جی سندھ سے سول سوسائٹی وفد کی ملاقات، خواتین و بچوں کے حقوق اور فہمیدہ لغاری کیس پر تفصیلی بریفنگ

کراچی سکھن پولیس کی کارروائی، اسٹریٹ کرائم اور موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار

کراچی کیماڑی پولیس کی بڑی کارروائیاں، ایرانی ڈیزل، غیر ملکی سگریٹ اور چھالیہ اسمگلنگ ناکام، متعدد ملزمان گرفتار

کراچی سینٹرل ڈسٹرکٹ میں پولیس کی بڑی کارروائیاں، اسٹریٹ کرائم، منشیات اور گٹکا مافیا کے متعدد ملزمان گرفتار

بھارتی میڈیا کا اعتراف: عالمی سفارت کاری میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اثر و رسوخ بڑھ گیا

پاکستان خطے کی معاشی طاقت بننے کی جانب گامزن، گوادر کی اہمیت میں اضافہ

پاکستان

پیک ٹائم میں بجلی کی فراہمی بہتر، شارٹ فال میں نمایاں کمی

پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملک میں پیک ٹائم کے دوران بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث لوڈ مینجمنٹ کا دورانیہ بھی محدود رہا۔

کراچی

سندھ پولیس افسران کی رینک پننگ تقریب، 17 افسران کو ترقی کے بیجز لگا دیے گئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینٹرل پولیس آفس کراچی میں سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کے لیے رینک پننگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں مجموعی طور پر 17 افسران کو اگلے عہدوں پر ترقی کے رینک لگائے گئے۔ ترقی پانے والوں میں 06 ایس پیز کو ایس ایس پیز جبکہ 11 ڈی ایس پیز کو ایس پیز کے عہدوں پر ترقی دی گئی۔

تجارت

صرافہ مارکیٹس: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5 لاکھ سے نیچے

صرافہ مارکیٹس: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5 لاکھ سے نیچے

کھیل

قومی کرکٹ ٹیم کا بنگلا دیش کا دورہ، پہلی بار سلہٹ میں ٹیسٹ میچ

قومی کرکٹ ٹیم کا بنگلا دیش کا دورہ، پہلی بار سلہٹ میں ٹیسٹ میچ

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.