...

تازہ ترین

Tuesday, 21st April 2026

اسلام آباد: محسن نقوی کی ایرانی سفیر سے ملاقات، خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکراتی عمل پر زور

سچل پولیس کی کارروائی، غیر ملکی شراب کی سپلائی ناکام، ملزم گرفتار

مہاجر قوم وسائل میں حق کی حقدار ہے، تعلیمی نظام بحران کا شکار ہے: آفاق احمد

نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) پارلیمانی بورڈ کا اجلاس، گلگت بلتستان انتخابات کے امیدواروں کے انتخاب پر غور

کراچی: ایران و امریکہ مذاکرات پر امید، پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اہم کردار ادا کیا: ناصر حسین شاہ

شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کی کارروائی، گٹکا ماوا فروشی میں ملوث ملزم گرفتار، منشیات برآمد

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

رضویہ سوسائٹی میں پولیس کی کارروائیاں، گٹکا فروش اور اسٹریٹ کرمنل گرفتار

شاہراہِ فیصل پر غیر قانونی کال سینٹر بے نقاب، این سی سی آئی اے کی کارروائی میں 3 ملزمان گرفتار

عوام دوست مویشی منڈی میں 5 ہزار سے زائد قربانی کے جانور پہنچ گئے، شہریوں کیلئے سہولیات میں اضافہ

کراچی میں اسمارٹ ٹریفک سگنلز کا فیصلہ، اہم شاہراہوں پر جدید نظام متعارف کرایا جائے گا

پاکستان

اسلام آباد: محسن نقوی کی ایرانی سفیر سے ملاقات، خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مذاکراتی عمل پر زور

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) — وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے انتظامات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کراچی

سچل پولیس کی کارروائی، غیر ملکی شراب کی سپلائی ناکام، ملزم گرفتار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) — ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس نے غیر ملکی اور امپورٹڈ شراب کی سپلائی کی کوشش ناکام بنا کر ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔

تجارت

صرافہ مارکیٹس: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5 لاکھ سے نیچے

صرافہ مارکیٹس: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5 لاکھ سے نیچے

کھیل

قومی کرکٹ ٹیم کا بنگلا دیش کا دورہ، پہلی بار سلہٹ میں ٹیسٹ میچ

قومی کرکٹ ٹیم کا بنگلا دیش کا دورہ، پہلی بار سلہٹ میں ٹیسٹ میچ

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.