...

تازہ ترین

ایران کی نئی سفارتی تجویز، آبنائے ہرمز کی بحالی کو جوہری مذاکرات سے مشروط کر دیا

شجاع آباد میں ایک ہی خاندان کے 9 نوجوانوں کی اجتماعی شادیاں، سادگی اور خاندانی اتحاد کی مثال

حزب اللہ کا اسرائیل سے براہِ راست مذاکرات سے انکار، مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

گلیات سے مری پانی سپلائی کا تنازع شدت اختیار کر گیا، خیبرپختونخوا نے پنجاب سے 64 ارب روپے کے واجبات کا مطالبہ کر دیا

آبنائے ہرمز کا یونیورسٹی روڈ سے موازنہ، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان

Monday, 27th April 2026

پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم قابل احترام ہیں، ایران جنگ جلد ختم ہوگی: ڈونلڈ ٹرمپ

واٹر کارپوریشن کا بڑا کارنامہ، 48 گھنٹوں کا کام 33 گھنٹوں میں مکمل، کراچی کے 95 فیصد علاقوں میں پانی بحال

ناردرن بائی پاس مویشی منڈی میں اتوار کو میلے کا سماں، شہریوں کی بڑی تعداد، ڈائمنڈ بیل مرکزِ توجہ

کراچی میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے متعدد ملزمان گرفتار کر لیے

پاکستان

گلیات سے مری پانی سپلائی کا تنازع شدت اختیار کر گیا، خیبرپختونخوا نے پنجاب سے 64 ارب روپے کے واجبات کا مطالبہ کر دیا

گلیات سے مری پانی سپلائی کا تنازع شدت اختیار کر گیا، خیبرپختونخوا نے پنجاب سے 64 ارب روپے کے واجبات کا مطالبہ کر دیاt

کراچی

آبنائے ہرمز کا یونیورسٹی روڈ سے موازنہ، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان

آبنائے ہرمز کا یونیورسٹی روڈ سے موازنہ، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان

تجارت

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

کھیل

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.