...

تازہ ترین

دبئی میں پراپرٹی ویزا قوانین میں نرمی، سرمایہ کاروں کیلئے نئے رہائشی مواقع

بنگلورو میں 40 منٹ کی موسلادھار بارش، نظام زندگی مفلوج، 10 افراد ہلاک

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا کوہ نور ہیرے کی واپسی سے متعلق بیان، برطانیہ سے بات کرنے کا عندیہ

سندھ حکومت نے آبی اصلاحات اور آبپاشی نظام کی جدیدکاری کے اقدامات تیز کر دیے

کراچی میں غیر قانونی ٹریول ایجنسی پر ایف آئی اے کا چھاپہ، ملزم گرفتار

کراچی میں پولیو بوسٹر مہم 2026 کی تیاریوں کا جائزہ، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کی ہدایت

فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا پولیس کی بڑی کارروائی، دو ارب ایرانی ریال اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 2 ملزمان گرفتار

کیماڑی پولیس کی بڑی کارروائی، نان کسٹم پیڈ سگریٹ سے بھرا کنٹینر پکڑا گیا

پاک بحریہ کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کی چین میں کمیشننگ، بحری دفاع میں تاریخی سنگِ میل

KPO ویلفیئر برانچ کا ہسپتالوں کا اچانک دورہ، فوکل پرسنز کی کارکردگی کا جائزہ

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، منشیات و کچے کے علاقوں میں آپریشنز پر پیش رفت کا جائزہ

عوام دوست مویشی منڈی میں “لال بادشاہ” اور “سلطان” کی دھوم، نایاب سفید بھینسے شہریوں کی توجہ کا مرکز

پاکستان

سندھ حکومت نے آبی اصلاحات اور آبپاشی نظام کی جدیدکاری کے اقدامات تیز کر دیے

حکومت سندھ نے صوبے میں آبی شعبے کی اصلاحات اور آبپاشی نظام کی جدید کاری کے اقدامات کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر آبپاشی و منصوبہ بندی Jam Khan Shoro کی صدارت میں ورلڈ بینک کے SWAT منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

کراچی

کراچی میں غیر قانونی ٹریول ایجنسی پر ایف آئی اے کا چھاپہ، ملزم گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شاہراہ فیصل پر قائم ایک غیر قانونی ٹریول ایجنسی پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کر لیا۔

تجارت

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

آم کی برآمدات یکم جون سے قبل شروع نہ کرنے کا مطالبہ، ایکسپورٹرز نے حکومتی پالیسی پر نظرثانی کا کہا

کھیل

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

پی سی بی کا سینیٹ کو تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات دینے سے انکار، ٹیم دورہ فہرست بھی خفیہ قرار

بلاگ

پاکستانی عوام اور اشرافیاں

پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.