ٹرمپ کی ایران پر حملوں کی دھمکی، پتھر کے زمانے کی بات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جمعرات، تین اپریل کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کے ایک ماہ مکمل ہونے پر امریکی قوم سے خطاب کیا۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملوں کے نتائج کے حوالے سے بے بنیاد دعوے کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکہ ایران کے تمام پاور پلانٹس اور بنیادی انفراسٹرکچر پر شدید حملے کرے گا۔

گورنر سندھ سے جناح یونیورسٹی برائے خواتین کے چانسلر کی ملاقات

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف مستقبل میں مزید حملوں کے امکانات کا بھی ذکر کیا اور ایک جملے میں کہا کہ ایران کو اتنے شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وہ "پتھر کے زمانے” میں واپس لوٹ جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان جنگی بربریت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا مظہر ہے۔

امریکی صدر اور ان کے وزیر دفاع کی اس بیان بازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جنگی حکمت عملی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے، جس میں بجلی، پانی، مواصلات، سڑکیں، پل اور ہسپتال شامل ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسی پل یا عمارت کو نشانہ بنا کر ملت ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس، ایران اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر کر لے گا، جبکہ امریکہ کی ساکھ اور اعتماد کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔

ماہرین بین الاقوامی قانون کے مطابق امریکی اقدامات جنیوا کنونشن کے ضمیمہ قوانین، خصوصاً آرٹیکل ۵۴ کے خلاف ہیں، جو شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے سے گریز کی ہدایت کرتا ہے۔ ایران کے تاریخی اور تہذیبی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ امریکہ کی دھمکیوں کے باوجود ایران کو "پتھر کے زمانے” میں واپس نہیں لوٹایا جا سکتا۔ ایران کی مضبوط عسکری صلاحیت، قومی بیداری اور تہذیبی تسلسل اس بات کی ضمانت ہیں کہ یہ ملک ہر بحران میں قائم و دائم رہے گا۔

قونصل جنرل ایران اکبر عیسی زادہ نے کراچی سے جاری بیان میں کہا کہ امریکی دھمکیاں نہ صرف غیرقانونی ہیں بلکہ یہ عالمی امن اور انسانیت کے لیے خطرناک ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف بلاجواز جارحیت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

One thought on “ٹرمپ کی ایران پر حملوں کی دھمکی، پتھر کے زمانے کی بات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!