تحریر نذیر احمد وید
دنیا تیزی سے ایک ایسے مالیاتی انقلاب کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں سرمایہ کاری، ملکیت اور منافع کے تصورات ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں۔ بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ٹوکنائزیشن اسی انقلاب کی ایک طاقتور شکل ہے، جو نہ صرف سرمایہ کاری کے دروازے عام آدمی کے لیے کھول رہی ہے بلکہ مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف، محفوظ اور منصفانہ بنا رہی ہے۔
ٹوکنائزیشن کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسی حقیقی اثاثے جیسے زمین، عمارت یا دیگر پیداواری اثاثے کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تقسیم کیا جائے، اور ہر ٹوکن اس اثاثے میں ملکیت کے ایک حقیقی اور قابلِ تصدیق حصے کی نمائندگی کرے۔ اس طریقے سے چھوٹے سرمایہ کار بھی بڑے منصوبوں میں حصہ لے سکتے ہیں، جبکہ روایتی سرمایہ کاری میں جو مشکلات تھیں، وہ ختم ہو جاتی ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی بالخصوص ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں انقلاب برپا کر رہی ہے۔ ٹوکنائزیشن سے نہ صرف سرمایہ کاری آسان ہو جاتی ہے بلکہ اثاثے میں لیکویڈیٹی پیدا ہوتی ہے، یعنی سرمایہ کار ضرورت پڑنے پر اپنے ٹوکن فروخت کر سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ٹوکنائزیشن مکمل طور پر شریعت کے مطابق مالیاتی حل ہے، کیونکہ یہ حقیقی اثاثوں پر مبنی، سود سے پاک اور نفع و نقصان میں شراکت پر مشتمل ہے۔ ٹوکن کسی قرض یا وعدۂ منافع کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اثاثے میں ملکیت کو ظاہر کرتا ہے، اور منافع اثاثے کی اصل کارکردگی سے حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درست ریگولیٹری فریم ورک، شریعت گورننس اور تکنیکی شفافیت کے ساتھ اسے اپنایا جائے تو ٹوکنائزیشن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک جدید اور مؤثر مالیاتی ماڈل بن سکتی ہے، جو معاشی خودمختاری، شمولیت اور اعتماد کو فروغ دے۔
