سرفروشی کا زیرِ آب کا رواں

فیاض احمد عباسی

سمندر قدرت کا انمول تحفہ ہیں جو اقتصادی اور دفاعی نقطہ نظر سے خاصے اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ جن اقوام کے پاس سمندر جیسی دولت ہے وہ اُن کے وسائل سے اپنے معیشیت کو مضبوط بنا رہے اور اُن کے فوجی استعمال سے دفاع کو نا باقافل تسخیر بنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ جس مقام پر معرض وجو د میں آیا، وہ کئی پہلوؤں سے اہم ہے۔ اگر صرف سمندر کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کا سمند بحیرہ عرب کے شمالی کنارے پر واقع ہے اور مشرق و مغرب کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتاہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی ایک ہزار سے زائد کلو میٹر پر مشتمل ہے جبکہ سمندری علاقہ290,000مربع کلو میٹر ہے۔ یہ دنیا کے اہم سمندری گزر گاہوں کے قریب کا علاقہ ہے جس میں آبنائے ہرُمز قابل ذکر ہے۔ پاکستان کا سمندر تیل، گیس، معدنیات اور دیگر وسائل سے مالا مال ہے۔ پاکستان کی 95فیصد بیرونی تجارت سمندروں کے ذریعے ہوتی ہے۔ سمندر جیسی بیش قیمت نعمت کی حفاظت و نگرانی کے لیے پاکستان بحریہ ہر دم چوکس و تیار رہتی ہے اور دورِ حاضر کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہے۔ پاکستان نیوی ایک چارجہتی فوج ہے جو زمین، فضا، سمندر اور زیر سمندر محاذوں پر پہرہ دیئے ہوئے ہے۔ پاکستان بحریہ کی زیر سمندر فورس کو سبمرین فورس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فوج کے افسران و جوان ہزاروں میل سمندری گہرائی میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ انسانوں کی نظروں سے اوجھل اور پیاروں سے کوسوں دور کارہائے منصبی کی ادائیگی میں مگن اِن سرفروشوں کا جذبہ اور لگن یقیناََ قابلِ ستائش و تحسین ہے۔ اِن کی موجودگی دشمن کے لیے خوف کی علامت ہے اور سمندری دفاع کی ضامن ہے۔ جب بھی ضرورت پڑی اس فورس نے قوم کے وقار میں اضافہ کیا اور دشمن پر کاری ضرب لگائی۔ اس فورس کا آغاز 1964میں اُس وقت ہوا جب پاکستان نے امریکہ سے ٹنچ کلاس (Tench Class) آبدوز یو ایس ایس ڈیابلو حاصل کی۔

ایس سی او سمٹ نئے عالمی نظام اور علاقائی تعاون کی شروعات ہے: میاں زاہد حسین

سبمیرین کو دفاعی لحاظ سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی مہلک مشین ہے جو سمندر کی گہرائیوں میں دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر اپنا مشن مکمل کرتی ہے۔ سبمیرین ریڈار سے بھی بچ نکلتی ہے اور اس کی موجودگی کا ادراک کافی مشکل ہوتاہے۔ یہ ایک خاموش قاتل ہے جس کا نفسیاتی دباؤ دشمن کو پریشان کیے رکھتا ہے۔ عصرِ حاضر کی سبمیرینز انتہائی خطرناک ہو چکی ہیں جو تباہ کُن گولہ بارود او رجدید میزائلوں سے لیس ہیں۔

1964میں امریکہ سے حاصل کی جانے والی سبمرین کو ”غازی”کا نام دیا گیا۔غازی نے ہمیشہ اپنے نا م کی لاج رکھی اور کئی معرکوں میں غازی رہی۔1965میں پاک بھارت جنگ کا آغاز ہو گیا۔ غازی واحد آبدوز تھی جو پاکستان بحریہ کے جنگی بیڑے میں شامل تھی۔ اس آبدوز نے جنگ کے دوران بھارتی ساحلی شہر دوارکا میں کا میاب آپریشن انجام دینے والے جہازوں کا بھرپور ساتھ دیا اور دشمن کے پانیوں میں بدستور موجود رہی۔ اس کی موجودگی کی وجہ سے بھارتی بحریہ کا کوئی بھی جنگی جہاز کھلے سمندر میں لڑائی کے لیے آنے کی جرأت نہ کر سکا حالانکہ پاکستان کے سات جہازوں نے200 میل بھارتی پانیوں میں گھس کر دوراکا پر کامیاب حملہ کیا۔ اس جنگ کے بعد سبمیرین فورس کی جنگی افادیت میں مزید اضافہ ہوا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس فورس کو مزید وسعت دی جائے۔ نتیجتاً، 1969میں پاکستان نے فرانس سے ایک ڈیفنی کلاس آبدوز حاصل کی جو پی این ایس ہنگور کے نام سے پاکستان نیوی کا حصہ بنی، 1970میں دو ڈیفنی کلاس آبدوزیں ”شوشک”اور ”مانگرو“ کے نام سے پاک بحریہ کے جنگی بیڑے کا حصہ بنیں جو فرانس سے حاصل کی گئی تھیں۔ اس طرح 1971 تک چار آبدوزیں بحری سرحدوں کی حفاظت و نگرانی کے لیے سمندر میں موجود تھیں۔

1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران آبدوزوں کو حساس نوعیت کے مشن سونپے گئے۔ اِ ن آبدوزوں کے افسران اور عملے نے شاندار پیشہ ورانہ انداز، بلند جذبوں اور غیر معمولی بہادری کے ساتھ اِن مشنز کو مکمل کیا اور 1971 کی جنگ کے دوران سبمرین فورس کی دھاک بٹھائی۔ آبدوز غازی کو مشرق بنگال میں تعیناتی کے حکم دئیے گئے تاکہ بھارتی بحریہ کے جنگی جہازوں بالخصوص طیار بردار جہاز وکرانت کو تباہ کیاجائے۔ اس مشن کے دوران آبدوز اپنے عملے سمیت شہید ہو گئی۔ قرین قیاس ہے کہ آبدوزغازی دشمن کے لیے بچھائی جانے والی اپنی ہی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ اس وقت سمندر انتہائی بپھرا ہوا تھا اور تیز سمندری ہوائیں چل رہی تھیں جن سے بارودی سرنگ لُڑک کرغالباً آبدوز سے ٹکرا گئی۔ آبدوز ہنگور کو مغربی ساحل پر تعینات کیا گیااس آبدوز نے بھارتی جہاز آئی این ایس کُکری کو نشانہ بنا کر اُسے سمندر بُرد کیا اور ایک دوسرے جہاز کِرپان کو نقصان پہنچایا۔ آئی این ایس کُکری ایک آبدوزشکن جہاز تھا جو خصوصی طو ر پر پاکستانی آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ہنگور کے عملے نے یہ کارنامہ سر انجام دے کر قومی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کیا۔ آبدوز شوشک اور مانگرو مغربی ساحل پر تعینات رہیں جنہوں نے نگرانی اور گشت کے فرائض انجام دئیے۔اس جنگ کے بعد پاکستان نے جنگی بیڑے میں مزید آبدوزوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی۔اس فورس کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں عسکر ی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے فرانس سے آگسٹا 90B کلاس آبدوزں کی تیاری کا معاہدہ ہوا۔ ان میں دو آبدوزیں فرانس میں تیا ر کی گئیں جبکہ تیسری آبدوز کو مقامی سطح پر پاکستان میں بنایا گیا۔ یہ آبدوزیں جدید مہلک ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس تھیں۔ ان آبدوزوں کو عصر حاضر کی ضروریات کے مطابق وقتاً فوقتاً اپ گریڈ کیا گیا۔

چین پاکستان کا قریبی دوست اور ہمسایہ ملک ہے جس نے ضرورت پڑنے پر پاکستان کی ہر ممکن مدد کی۔ سی پیک سے لے کر ہنگور کلاس آبدوزوں کی تیاری تک دونوں ممالک نے کئی مشترکہ منصوبوں پر کام کیا اور ان کی تکمیل کی۔ ہنگور کلاس آبدوزوں کی تیاری اور پاکستان نیوی میں اِن کی شمولیت ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ آٹھ جدید آبدوزوں کی تیاری کا منصوبہ ہے جن میں سے چار آبدوزیں چین جبکہ چار آبدوزیں پاکستان میں تیار ہوں گیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سے خطے میں پاکستان کو سبمیرین دفاع اور صلاحیت میں برتری حاصل ہو جائے گی۔ خطے میں بگڑتے ہوئے توازن سے نہ صرف علاقائی امن کو خطرہ لاحق تھا بلکہ معرکہء حق اور آپریشن بنیان مرصوص سے قبل ہمارا روایتی حریف بھارت خود کو خطے کی سپر پاور سمجھنے لگا تھا۔ اُس کی خام خیالی تھی کہ بڑا ملک اور بڑی فوج کی وجہ سے علاقائی فیصلوں پر اثر انداز ہو گا اور من مانے منصوبوں کے لیے سفارتی سطح پرحمایت حاصل کر لے گا لیکن پاکستا ن کی مسلح افواج نے اُس کے غرور کو خاک چٹا کر عسکری اور سفارتی محاذ پر ایسی شکست دی جو اُسے صدیوں یاد رہے گی۔

پاک چین ہنگور کلاس منصوبے کے تحت تیار ہونے والے آبدوزیں ایئر اینڈی پینڈنٹ پروپلشن جیسی خصوصیات کی حامل ہوں گی۔ ایئر اینڈی پینڈٹ پروپلشن سسٹم ایک ایسا سسٹم ہے جس کے باعث کئی دنوں تک آبدوز زیرِ سمندر رہ سکتی ہے۔ یہ آبدوزیں جدید ترین ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس کی جائیں گی تاکہ وہ دور سے ہی اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کے تحت پاکستان میں بننے والی آبدوزیں مقامی سطح پر آبدوز سازی کی صنعت میں انقلابی اقدام ہوگا۔ اس سلسلے کی تیسری آبدوز کو چین میں سمندر میں اُتار دیا گیا ہے جہاں وہ آزمائشی وقت پورا کر رہی ہے۔ جبکہ کراچی میں آبدوز کی تیاری تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

سبمیرین فورس کے متعلق پاکستان کی پالیسی سے خطے میں امن و سیکورٹی کو فروع حاصل ہو گا، بحری دفاع مضبوط تر ہو گا، برتری کے زعم کو خاک میں ملایا جائے گا، مقامی آبدوز سازی کو ترقی حاصل ہو گی اور بحری تجارت مزید محفوط ہو گی۔ جنگی اثاثہ جات کی شمولیت کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی بھی پاکستان نیوی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اِن اقدامات سے پاکستان نیوی کے وقار، صلاحیتوں اور اعتماد میں اضافہ ہو گا جس سے مورال مزید بلند ہو گا اور کو ئی بھی دشمن پاکستان پر جارحیت سے پہلے سو بار ضرور سوچے گا۔

52 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!