(تشکر نیوز) کیسپرسکی کے محققین نے اپنی نئی رپورٹ "Signal in the Noise” میں انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 120 سے زائد ہیکٹیوسٹ گروپس اور 11 ہزار سے زیادہ پوسٹس ڈارک ویب پر شیئر کی گئیں، جن میں سائبر حملوں کی ذمہ داریوں اور اعلانات کی تفصیلات شامل تھیں۔
گریڈ 21 کے پولیس آفیسر شکیل احمد درانی ڈی جی نیب کراچی تعینات
رپورٹ کے مطابق ہیش ٹیگز اب ہیکٹیوسٹ مہمات کا ایک مستقل اور نمایاں حصہ بن چکے ہیں، جو شناخت، رابطے اور حملوں کی ذمہ داری ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
کیسپرسکی نے بتایا کہ ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) اب بھی سب سے عام سائبر حملے کا طریقہ ہے، اور 61 فیصد حملے اسی نوعیت کے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ہیکٹیوسٹ گروپس کسی ہدف پر حملے کا اعلان کرنے کے چند دنوں کے اندر عملی کارروائی کر دیتے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ 2025 میں دو ہزار سے زائد منفرد ہیش ٹیگز ریکارڈ ہوئے، جن میں سے 1,484 پہلی بار استعمال ہوئے۔ زیادہ تر ٹیگز دو ماہ میں ختم ہو جاتے ہیں، مگر بعض مشہور ہیش ٹیگز اتحاد اور مشترکہ مہمات کے باعث زیادہ عرصے تک فعال رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ ممالک میں یورپ، امریکا، بھارت، ویتنام اور ارجنٹینا شامل ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہیکٹیوسٹ گروپس مقامی اہداف کے بجائے عالمی توجہ حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
کیسپرسکی کی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ تجزیہ کار کسینیا کوداشیوا نے کہا کہ “ہیکٹیوسٹ گروپس عام سائبر مجرموں کے برعکس خفیہ نہیں رہتے بلکہ کھلے عام شہرت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوتے ہیں۔ تاہم، ان کی یہی خصوصیت ان کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہے اگر ادارے ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھیں۔”
کیسپرسکی نے مشورہ دیا ہے کہ عالمی کاروباری اور سرکاری ادارے ڈی ڈاس حملوں کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی کو ترجیح دیں، ردعمل کے منصوبے پہلے سے تیار رکھیں، اور ڈارک ویب کی نگرانی کے ذریعے ممکنہ خطرات اور نئے اتحادوں کی بروقت نشاندہی کریں۔
