کراچی (اسٹاف رپورٹر) — کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں بین الاقوامی تعاون کے ایک نئے دور کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت شہر کے پانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں کراچی واٹر کارپوریشن اور یورپی انویسٹمنٹ بینک (EIB) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت گھارو اور پپری پمپنگ اسٹیشنز پر جدید واٹر فلٹریشن منصوبے مشترکہ طور پر شروع کیے جائیں گے۔
تقریب میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ معاہدے پر دستخط چیف ایگزیکٹو آفیسر واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی، سیکریٹری بلدیات ڈاکٹر وسیم شمشاد علی اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے ہیڈ آف ڈویژن ایڈوارڈاس بُمشٹیناس نے کیے۔
اس موقع پر واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام سمیت مختلف پراجیکٹ افسران اور یورپی یونین کے نمائندگان بھی موجود تھے، جن میں سفیر برائے پاکستان ریمونڈس کاروبلس، ہیڈ آف کوآپریشن جیرون ولمس اور لون آفیسر مارکو آرین شامل تھے۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق اس معاہدے کے تحت نہ صرف جدید واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کیے جائیں گے بلکہ پانی کے نظام کی جدید ڈیزائننگ، مؤثر نگرانی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن بھی منصوبے کا حصہ ہوگی۔ اس کا بنیادی مقصد شہر میں صاف، محفوظ اور معیاری پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس موقع پر کہا کہ یورپی انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے تقریباً ایک دہائی بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے جدید اور پائیدار واٹر مینجمنٹ سسٹم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی اشتراک سے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی بلکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔
میئر کراچی نے کہا کہ یہ معاہدہ شہر کے واٹر سسٹم کی بہتری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور آئندہ بھی اسی نوعیت کے مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
