تازہ ترین
پاکستان
کراچی

تجارت
کھیل
بلاگ
پاکستانی عوام اور اشرافیاں
پاکستان کے بارے میں ایک تاثر بہت عرصے سے موجود ہے کہ ملک میں ایک صوبے کا غلبہ ہے اور باقی صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہیں، مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف صوبائیت کا نہیں بلکہ طاقت کے ایک ایسے نظام کا ہے جس میں ایک محدود اشرافیہ ملک کے وسائل، سیاست اور فیصلوں پر قابض رہی ہے۔ عام آدمی چاہے کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس نظام میں خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے چینی اور احساس محرومی بڑھتا گیا اور صوبائی تقسیم کی باتیں زیادہ نمایاں ہونے لگیں، حالانکہ اصل مسئلہ طاقت کی غیر منصفانہ تقسیم کا تھا۔پاکستان جب وجود میں آیا تو عوام کو امید تھی کہ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف ہوگا، ترقی ہوگی اور عوام کو حقوق ملیں گے۔ مگر قیام پاکستان کے فوراً بعد ملک کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور ادارہ جاتی کمزوریاں شامل تھیں۔ اس صورتحال میں طاقت رفتہ رفتہ چند طاقتور طبقات کے ہاتھ میں چلی گئی۔ جاگیردار، بڑے سرمایہ دار، بااثر خاندان اور طاقتور بیوروکریسی نے مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنا لیا جس میں عام آدمی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوتا گیا۔ یہ اشرافیہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ عوام کمزور ہوتے گئے۔
