کراچی: سندھ حکومت محکمہ داخلہ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس چیئرپرسن فریال تالپور کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں منشیات، اسٹریٹ کرائم، امن و امان اور کچے کے علاقوں میں جاری آپریشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
عوام دوست مویشی منڈی میں “لال بادشاہ” اور “سلطان” کی دھوم، نایاب سفید بھینسے شہریوں کی توجہ کا مرکز
اجلاس میں منشیات کی روک تھام کو نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ فریال تالپور نے کہا کہ منشیات ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے تمام اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے بارڈر ایریاز میں رینڈم چیکنگ اور سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں کے لیے پولیس کا خوف قائم ہونا چاہیے تاکہ اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں کچے کے علاقوں میں جاری آپریشنز پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ حکام کے مطابق ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں جبکہ بعض علاقوں میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جاوید عالم اوڈھو نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منشیات سے متعلق 133 ملزمان گرفتار اور 145 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں سے 107 افراد اس وقت جیل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور اغوا برائے تاوان کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کچے کے علاقوں میں آپریشن کو مزید مؤثر بنانے، خصوصی عدالتوں کے قیام اور منشیات کیسز کے اسپیڈی ٹرائلز کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بعض افسران کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان بھی کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے پولیس اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کچے کے علاقوں میں امن کی بحالی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
