کراچی (خصوصی رپورٹ) کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایک بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا ہے، جہاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے اعلیٰ افسران کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کر دی ہے۔
کراچی میں گیس لوڈشیڈنگ: شہریوں کا خطرناک متبادل، غباروں میں گیس بھر کر استعمال شروع
دستاویز کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو، ڈائریکٹر شاہد خوشک، ڈپٹی ڈائریکٹر مباشر شیخ سمیت دیگر افسران پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ انکوائری اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کراچی کی جانب سے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد شروع کی گئی ہے۔
غیر قانونی تعمیرات کا جال بے نقاب
ابتدائی تحقیقات میں یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ کراچی کے ضلع ایسٹ میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں، اور یہ سب کچھ مبینہ طور پر ایس بی سی اے کے افسران کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق:
غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کھلے عام جاری رہی
متعلقہ افسران نے کارروائی کے بجائے مبینہ طور پر چشم پوشی اختیار کی
شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوگئے
اینٹی کرپشن کا سخت حکم
اینٹی کرپشن حکام نے ڈپٹی ڈائریکٹر (ایسٹ)ایس بی سی اے کو سختی سے طلب کر لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ:
6 مئی 2026 کو دوپہر 2 بجے
ذاتی حیثیت میں پیش ہوں اور مکمل ریکارڈ ساتھ لائیں
طلب کیا گیا اہم ریکارڈ
افسران سے درج ذیل اہم دستاویزات طلب کی گئی ہیں:
منظور شدہ بلڈنگ پلانز کی مکمل تفصیلات
غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کی گئی کارروائی کا ریکارڈ
متعلقہ افسران کی تعیناتی اور ذمہ داریوں کی تفصیل
موجودہ سائٹس کی تصاویر اور اسٹیٹس رپورٹ
220 پلاٹس کی مکمل فہرست اور ان کے خلاف اعتراضات
“انتہائی اہم اور فوری” کیس قرار
خط میں واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ اس معاملے کو “انتہائی اہم اور فوری” بنیادوں پر نمٹا جائے، جو اس کیس کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
کراچی کے شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی
یہ انکشافات ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کراچی میں:
غیر قانونی تعمیرات مافیا مضبوط ہے
اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑیں شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں
سوالیہ نشان
اب بڑا سوال یہ ہے کہ:
کیا اس بار واقعی ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی؟
یا یہ کیس بھی ماضی کی طرح فائلوں میں دب جائے گا؟
عوام کا مطالبہ:
کراچی کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث تمام افسران کے خلاف شفاف اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

