کراچی میں گیس لوڈشیڈنگ: شہریوں کا خطرناک متبادل، غباروں میں گیس بھر کر استعمال شروع

کراچی: شہر میں گیس کی طویل لوڈشیڈنگ اور کم پریشر نے شہریوں کو ایک نہایت خطرناک راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ Orangi Town اور خصوصاً Mominabad کے علاقوں میں انکشاف ہوا ہے کہ مکین اب پلاسٹک کے بڑے غباروں میں گیس بھر کر گھروں میں استعمال کر رہے ہیں۔

پی آئی اے کی مکمل نجکاری مکمل، عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کر لیے

علاقہ مکینوں کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب خصوصی ایئر بیلونز ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے میں خریدے جا رہے ہیں، جنہیں گیس کی فراہمی کے اوقات میں Sui Southern Gas Company کی مین لائن سے جوڑ کر بھر لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہی گیس پورا دن کھانا پکانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل گیس بحران نے انہیں اس غیر معمولی قدم پر مجبور کیا ہے، اور یہ طریقہ ان کے لیے وقتی سہارا بن چکا ہے۔ تاہم ماہرین اس عمل کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گیس سے بھرے یہ غبارے کسی بھی وقت دھماکے کا سبب بن سکتے ہیں، کیونکہ معمولی چنگاری، گرمی یا رگڑ بھی انہیں پھاڑ سکتی ہے، جس سے گھروں میں موجود افراد کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کو “متحرک بم” سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔

ماہرین اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں، گیس کی فراہمی کو بہتر بنائیں اور اس جان لیوا رجحان کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں، تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔

One thought on “کراچی میں گیس لوڈشیڈنگ: شہریوں کا خطرناک متبادل، غباروں میں گیس بھر کر استعمال شروع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!