کراچی میں صفائی ستھرائی کے فقدان، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور دھول مٹی کے مسائل کے ساتھ ساتھ تجاوزات نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کی بڑی شاہراہوں، سروس روڈز اور اندرونی گلیوں میں قائم غیر قانونی قبضوں کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
Wednesday, 29th April 2026
شہریوں کا کہنا ہے کہ صبح دفاتر اور کاروبار کے لیے نکلتے وقت اور شام کو واپسی پر انہیں شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی بڑی وجہ سڑکوں پر قائم ریڑھیاں، ٹھیلے، پتھارے، مکینک ورکشاپس اور سبزی و پھل فروشوں کے غیر قانونی قبضے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ قیمتی ایندھن بھی ضائع ہو رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے تحت اینٹی انکروچمنٹ محکمے بھی موجود ہیں اور بظاہر کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں، تاہم اس کے باوجود تجاوزات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر وہ کون سی طاقتور مافیا ہے جو سرکاری اداروں کی کارروائیوں کے باوجود دوبارہ سڑکوں پر قابض ہو جاتی ہے۔
شہر کی اہم شاہراہوں جن میں ایم اے جناح روڈ، راشد منہاس روڈ، سہراب گوٹھ، ناگن چورنگی، نارتھ ناظم آباد، ملیر، قائد آباد اور کورنگی کے علاقے شامل ہیں، دن ہو یا رات تجاوزات کا قبضہ برقرار رہتا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں اب بہت کم ایسی سڑکیں باقی رہ گئی ہیں جہاں تجاوزات نہ ہوں۔ انہوں نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
