ملک میں آر ایل این جی (RLNG) کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
پمز اسپتال میں عمران خان کی آنکھوں کا فالو اپ چیک اپ، طبی عمل مکمل ہونے کے بعد ڈسچارج
ذرائع کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے تحت آر ایل این جی کے موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے، جس کے باعث پاور سیکٹر اور کھاد کے شعبے کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی گیس سپلائی میں واضح کمی کا سامنا ہے، جبکہ مجموعی سپلائی کم ہو کر تقریباً 700 ملین کیوبک فٹ رہ گئی ہے، جو اس سے قبل 1200 ملین کیوبک فٹ روزانہ تھی۔
ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق گیس کا مجموعی شارٹ فال 600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر چکا ہے، جس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب سوئی گیس حکام کا مؤقف ہے کہ گھریلو صارفین کو کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آر ایل این جی کی مسلسل فراہمی بحال نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں گیس بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
