متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اوپیک اور اوپیک پلس سے باضابطہ علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی توانائی نظام میں دہائیوں بعد آنے والی ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ یکم مئی 2026 سے نافذ ہونے والا یہ فیصلہ 59 سالہ رکنیت کے خاتمے کے مترادف ہے، جس کے بعد یو اے ای کو عالمی تیل مارکیٹ میں ایک آزاد اور خودمختار کھلاڑی کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔
امریکا نے ایران سے منسلک 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت پہلے ہی 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہی ہے، جبکہ یو اے ای کے اس فیصلے کو اوپیک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 2019 میں قطر، 2020 میں ایکواڈور اور 2024 میں انگولا بھی تنظیم سے الگ ہو چکے ہیں۔
یو اے ای کے انخلا کی بنیادی وجہ پیداواری کوٹے پر طویل عرصے سے جاری اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔ ملک نے گزشتہ برسوں میں ADNOC کے ذریعے اپ اسٹریم انفراسٹرکچر میں 150 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی، جس کے نتیجے میں اس کی پیداواری صلاحیت تقریباً 5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، تاہم اوپیک پلس کوٹے کے تحت اس پیداوار کو محدود رکھا گیا جس سے بڑی مقدار میں صلاحیت غیر استعمال شدہ رہی۔
عالمی توانائی منتقلی، تیل کی ممکنہ کم ہوتی طلب اور خطے میں جغرافیائی کشیدگی بھی اس فیصلے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور روزانہ لاکھوں بیرل کی برآمدات متاثر ہونے کے خدشات سامنے آئے۔
یو اے ای کی اسٹریٹجک پائپ لائن حبشان–فجیرہ بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کو براہ راست خلیج عمان تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کی معیشت میں تیل کے علاوہ شعبوں کا حصہ 77 سے 78 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ 2026 میں معیشت کی شرح نمو 5.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ ملک مصنوعی ذہانت، مالیات، لاجسٹکس اور جدید صنعتوں پر تیزی سے انحصار بڑھا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کا اوپیک سے اخراج تنظیم کے اندر طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا اور عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے موجودہ نظام کو بھی چیلنج کر سکتا ہے۔
