دہلی ہائیکورٹ نے بھارتی اداکار راجپال یادیو کے خلاف چیک باؤنس کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس سے اداکار کے مدنظر قانونی منظرنامے پر عالمی میڈیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
فخر زمان کی اپیل مسترد، پابندی برقرار
سماعت کے دوران جج نے راجپال یادیو کے مؤقف میں تضادات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے دیے گئے وعدوں اور موجودہ بیانات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ شکایت کنندہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اداکار سزا قبول کر چکے ہیں اور اب وہ ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔
عدالت نے فریقین کو تصفیے کی تجویز بھی پیش کی، تاہم راجپال یادیو نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں حصہ لیتے ہوئے کہا، ’’میں جذباتی نہیں ہوں، مجھے پانچ بار اور جیل بھیج دیں۔‘‘
یہ تنازع 2010 سے جاری ہے، جب راجپال یادیو نے فلم سازی میں قدم رکھتے ہوئے اپنی فلم ’’اتا پتہ لاپتہ‘‘ کے لیے 5 کروڑ روپے قرض لیا تھا۔ فلم کی ناکامی کے بعد مالی تنازع بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ 2018 میں ٹرائل کورٹ نے راجپال یادیو کو 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی، جسے 2019 میں برقرار رکھا گیا۔ اب دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے، جو اداکار کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔
