لاہور/اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) — شاعرِ مشرق اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی 88 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں میں بیداری کی نئی روح پھونکی اور علیحدہ وطن کے تصور کو فکری بنیاد فراہم کی۔ ان کا 1930ء کا الہٰ آباد کا خطبہ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
علامہ اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ سے حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ماسٹرز کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ کا سفر کیا۔ انہوں نے انگلینڈ سے قانون کی ڈگری اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی حاصل کی۔
انہوں نے تدریس، وکالت اور سیاسی و فکری سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1922ء میں انہیں برطانوی حکومت کی جانب سے “سر” کا خطاب دیا گیا۔
علامہ اقبالؒ کے معروف مجموعہ کلام میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز شامل ہیں۔ ان کی شاعری نوجوانوں، مسلمانوں اور معاشرے کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
علامہ اقبالؒ نے ایک آزاد وطن کا تصور پیش کیا جس کی تعبیر بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کی صورت میں سامنے آئی۔
علامہ اقبالؒ 21 اپریل 1938ء کو وفات پا گئے اور ان کا مزار لاہور میں بادشاہی مسجد کے احاطے میں واقع ہے، جہاں آج بھی عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔
