پنجاب حکومت نے لاہور کے تاریخی تشخص کو بحال کرنے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے شہر کی سڑکوں، گلیوں اور عمارتوں کے پرانے نام بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے مشترکہ طور پر کی۔
بارشوں کے دوران سندھ رینجرز ہائی الرٹ، عوام کو احتیاطی ہدایات
اجلاس میں لاہور کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے حوالے سے مختلف منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ شہر کی سڑکوں اور گلیوں کے قدیمی نام دوبارہ بحال کیے جائیں گے تاکہ لاہور کی تاریخی شناخت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری کالجز جو یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکے ہیں، ان کے بھی اصل نام بحال کیے جائیں گے۔
اجلاس میں قدیمی اور تاریخی عمارتوں کی بحالی کے جاری منصوبوں پر رپورٹ پیش کی گئی اور ان کی پیشرفت کا تصویری جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مختلف مقامات پر بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، جس کا مقصد لاہور کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانا ہے۔
اجلاس کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں کانونٹ گارڈن قائم کیا جائے گا، جہاں سیمی کورڈ ایریا اور دکانوں کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ سیاحوں اور شہریوں کو بہتر ماحول میسر آ سکے۔
اسی طرح نیو میوزیم بلاک میں عالمی معیار کی گیلریز بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جہاں قدیمی اسلحہ، سکے، چائنیز اور سکھ گیلریاں قائم کی جائیں گی۔ ان گیلریز میں جدید انٹرایکٹو اسکرینز بھی نصب کی جائیں گی تاکہ سیاحوں کی دلچسپی میں اضافہ ہو اور انہیں تاریخی معلومات جدید انداز میں فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں شہر کے تاریخی علاقوں کو مزید پرکشش بنانے کے لیے شاہ عالم گیٹ سے رنگ محل چوک تک راستے کو پیدل گزرگاہ میں تبدیل کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس اقدام سے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں کو محفوظ اور خوشگوار ماحول بھی فراہم ہوگا۔
مزید برآں، لاہور کی 8 قدیمی گزرگاہوں کی بحالی اور قدیم شہر میں واقع تاریخی عمارتوں، بشمول مریم زمانی مسجد، کی بحالی پر بھی اتفاق کیا گیا۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے لاہور کے تاریخی ورثے کو نہ صرف محفوظ بنایا جائے گا بلکہ اسے عالمی سطح پر نمایاں بھی کیا جائے گا۔
