برطانیہ کے علاقے کینٹ میں گردن توڑ بخار کے پھیلاؤ کے بعد ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے ڈاکٹروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ گردن توڑ بخار کی علامات پر کڑی نظر رکھیں اور مشتبہ کیسز کی فوری تشخیص کو یقینی بنائیں۔
رپورٹس کے مطابق کینٹ یونیورسٹی کے تقریباً 5 ہزار طلبہ کو اس خطرناک مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے بیماری کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وبا کینٹربری کے ایک نائٹ کلب سے پھیلنے کا خدشہ ہے، جہاں سے انفیکشن آگے منتقل ہوا۔ اس وبا کے نتیجے میں دو طلبہ کے جاں بحق ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے، جبکہ اب تک 20 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
متاثرہ طلبہ کینٹ یونیورسٹی اور کوئین الزبتھ اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ حکام نے متاثرہ افراد سے قریبی رابطے میں رہنے والوں کی نشاندہی کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ طبی ماہرین متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگا رہے ہیں، اینٹی بائیوٹکس فراہم کی جا رہی ہیں اور ٹارگٹڈ ویکسینیشن پر کام جاری ہے تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بخار، سر درد، گردن میں اکڑاؤ اور روشنی سے حساسیت جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں، کیونکہ گردن توڑ بخار ایک تیزی سے پھیلنے والا اور جان لیوا مرض ثابت ہو سکتا ہے۔
