اسلام آباد: وزیراعظم Shehbaz Sharif نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ قائم کیا جائے۔
ایران اسرائیل جنگ: ہلاکتوں اور زخمیوں کے تازہ اعداد و شمار جاری
وزیراعظم کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حکام نے ملک میں تیل کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائے جائیں انہیں فوری طور پر سیل کیا جائے جبکہ ایسے پمپس کے لائسنس منسوخ کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور بلاتعطل فراہمی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور دستیابی کی نگرانی کے لیے ایک مؤثر ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارت پیٹرولیم کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے جو قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں ایک ماہ کے لیے تیار ایندھن جبکہ تقریباً 10 دن کے لیے خام تیل کے ذخائر دستیاب ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ پاکستان یومیہ تقریباً دو لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے جبکہ مقامی سطح پر 70 سے 80 ہزار بیرل تیل کی پیداوار ہوتی ہے۔
دوسری جانب ملک میں تیل کے ذخائر کے حوالے سے مختلف اداروں کے متضاد دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ Oil and Gas Regulatory Authority (اوگرا) کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 28 دن کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ Pakistan Petroleum Dealers Association کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف 14 دن کا ذخیرہ باقی ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق پاکستان کی تقریباً 80 فیصد تیل درآمدات خلیجی ممالک کے راستے ہوتی ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 14 ہزار پیٹرول پمپس موجود ہیں جن میں سے 12 ہزار فعال ہیں۔ ہر پیٹرول پمپ پر پیٹرول اور ڈیزل کی اوسط یومیہ فروخت تقریباً 10 ہزار لیٹر ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں روزانہ تقریباً 12 کروڑ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل فروخت ہوتا ہے جبکہ ماہانہ کھپت 3 ارب 60 کروڑ لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔
