14 اگست 2025 — جشنِ فتح یا احتجاج کا شور؟

تحریر: ثنا ہارون

14 اگست پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ دن آزادی، قربانی اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ مگر 2025 کا جشنِ آزادی باقی برسوں سے الگ اور منفرد ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ ہم 78واں یومِ آزادی منا رہے ہیں، بلکہ اس سال پاکستان نے ایک ایسی عسکری کامیابی حاصل کی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے فخر کا باعث رہے گی آپریشن بنیان المرصوص کی شاندار کامیابی۔

یہ آپریشن 10 مئی 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب بھارت کے زیرِ قبضہ علاقے پہلگام میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ بھارت نے بغیر کسی شواہد کے اس واقعے کا الزام براہِ راست پاکستان پر لگا دیا۔ پاکستان نے اس الزام کو فوری طور پر مسترد کیا اور عالمی برادری سے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

تاہم، خفیہ اداروں کی رپورٹس اور زمینی حقائق نے یہ واضح کیا کہ بھارت اس الزام کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ایسے میں عسکری قیادت نے پیش بندی کرتے ہوئے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کا مقصد نہ صرف سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا تھا بلکہ دشمن کے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا بھی تھا جو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم تھے۔

اس آپریشن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دوراندیش قیادت اور ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کی جرات مندانہ فضائی حکمت عملی نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فضائی اور زمینی محاذ پر مربوط کارروائی کے ذریعے دشمن کے حساس ٹھکانے تباہ کیے گئے، ان کے منصوبے ناکام بنائے گئے اور پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا گیا۔

یہ کامیابی صرف عسکری فتح نہیں تھی، بلکہ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے عزم اور دفاعی صلاحیتوں کو ثابت کر دیا۔ دوست ممالک نے پاکستان کی حکمت عملی کو سراہا، اور دشمن بھی یہ ماننے پر مجبور ہوا کہ پاکستان اپنے دفاع میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

اس پس منظر میں، 14 اگست 2025 کا دن محض ایک روایتی جشن نہیں بلکہ ایک جشنِ فتح ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک متحد قوم ہیں جو کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس موقع پر ملک کے کونے کونے میں تقریبات، پرچم کشائی، ملی نغمے اور آتش بازی کا اہتمام ہو رہا ہے۔ تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر، اور عوامی مقامات سب سبز ہلالی پرچم سے سجے ہوئے ہیں۔

یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مگر افسوس کہ اس خوشی اور یکجہتی کے ماحول میں بھی سیاست اپنی موجودگی ظاہر کر رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اسی دن بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ آزادی صرف جغرافیائی حدود کا نام نہیں بلکہ اس کا مطلب آئینی بالادستی، انصاف اور عوامی حقوق کی ضمانت ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، جب تک یہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے، جشن آزادی ادھورا ہے۔

یہ موقف اصولی طور پر درست لگ سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا قومی دن پر احتجاج کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہے؟ کیا یہ وہ دن نہیں جب ہمیں سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک متحد پیغام دینا چاہیے؟

یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب پی ٹی آئی نے کسی قومی یا تاریخی دن کو احتجاج کے لیے چنا ہو۔ اس سے قبل 5 اگست کو، جب پاکستان کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کر رہا تھا، اس روز بھی احتجاج کو ترجیح دی گئی۔ اس طرح کے اقدامات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قومی ایجنڈا ثانوی اور جماعتی سیاست اولین حیثیت رکھتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کامیابیوں کے مواقع پر قومیں اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آتی ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ اور امریکہ میں، یا دہشت گردی کے بعد کئی ممالک میں، سیاسی جماعتوں نے کم از کم کچھ وقت کے لیے اپنے اختلافات ختم کر کے ایک متحد چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

پاکستان کو بھی یہی رویہ اپنانا ہوگا۔ 14 اگست جیسے دن پر سیاسی احتجاج نہ صرف اندرونی طور پر قوم کو تقسیم کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک منفی پیغام دیتا ہے۔

اس موقع پر میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ فتح اور قومی یکجہتی کا بیانیہ مضبوط کرے، نہ کہ صرف سیاسی تنازعات کی کوریج تک محدود رہے۔ عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی دن پر انتشار نہیں بلکہ اتحاد کا پیغام دینا ہی اصل حب الوطنی ہے۔

اگر عوام فیصلہ کر لیں کہ وہ جشن منائیں گے اور کسی بھی سیاسی ایجنڈے کو اس موقع پر جگہ نہیں دیں گے، تو کوئی بھی جماعت اس دن کو اپنی سیاست کے لیے استعمال نہیں کر سکے گی۔

14 اگست 2025 کو پاکستان ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف آپریشن بنیان المرصوص کی شاندار کامیابی کا جشن ہے، جو ہماری قربانیوں، عزم اور اتحاد کی علامت ہے۔ دوسری طرف سیاسی احتجاج اور نعرے بازی کا شور ہے، جو اس اتحاد کو کمزور کر سکتا ہے۔

فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے: ہم جشن کی صف میں کھڑے ہو کر دنیا کو ایک متحد پاکستان دکھائیں، یا تقسیم کے گڑھے میں گر کر اپنی کامیابی کو خود ماند کر لیں۔ تاریخ ہمیں دیکھ رہی ہے، اور آنے والی نسلیں ہمارے آج کے فیصلے سے سبق سیکھیں گی۔

53 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!