ایران نے عالمی سطح کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جسے خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عید کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ سمیت اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور تنازع جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران پہلے ہی ان جہازوں کی نقل و حرکت کو متاثر کر رہا ہے جنہیں وہ اپنے مخالفین یا ان کے اتحادیوں سے منسلک سمجھتا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک رکنِ پارلیمان نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بل زیر غور ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام ممالک کو، چاہے وہ توانائی، تجارتی سامان یا خوراک کی ترسیل کر رہے ہوں، ایران کو ٹول اور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس کے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت ایران ان ممالک پر سمندری پابندیاں عائد کر سکے گا جنہوں نے اس پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
محمد مخبر کے مطابق ایران اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں توانائی کی سپلائی گزرتی ہے، اس لیے ایران کی کسی بھی نئی پالیسی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
