راولپنڈی (اسٹاف رپورٹر) – چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مذہبی جذبات کو تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
برطانیہ میں گردن توڑ بخار کی وبا، کینٹ میں ہیلتھ الرٹ جاری
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے راولپنڈی میں اہل تشیع علما کے وفد سے ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، بین الصوبائی ہم آہنگی اور امن و استحکام کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ملک میں اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علما غلط معلومات اور فرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان میں کسی کو بھی مذہب کے نام پر تشدد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف مؤثر کارروائی جاری رکھے گی۔
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشتگردوں کے خلاف جہاں بھی ہوں، کارروائی کی جائے گی۔
تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان کے ساتھ تعلقات۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں شریک علما نے تشدد کی بھرپور مذمت کی اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
مزید برآں، فیلڈ مارشل نے آپریشن غضب للحق کے تحت دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
