(مانیٹرنگ ڈیسک) – ایک برطانوی اخبار نے علی لاریجانی کی شہادت کو ایران کی حالیہ تاریخ کا ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے اسے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ممکنہ شہادت سے بھی زیادہ اہم واقعہ قرار دیا ہے۔
پولیس مقابلے میں زخمی اہلکار کی عیادت، ایڈیشنل آئی جی کا دورہ
اخبار کے مطابق علی لاریجانی ایران کے ایک بااثر اور تجربہ کار سیاستدان تھے، جو نہ صرف ایران بلکہ روس اور چین سمیت کئی ممالک میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی اثر و رسوخ کے باعث اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا۔
برطانوی اخبار نے مزید لکھا کہ علی لاریجانی کی موت قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے، جس کے اثرات ملکی سیاست اور خطے کی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یورپی کونسل برائے بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ایرانی امور کے ماہر ایلی جیرن مائے کا انٹرویو بھی شامل کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ جنگ بندی اور اس کے بعد ایران سے مذاکرات کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس موجود تمام راستے بند کر دیے جائیں۔
ماہر کے مطابق علی لاریجانی ایسے رہنما تھے جو ممکنہ طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے، تاہم ان کی عدم موجودگی سے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
