کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کے 400 سے زائد ملازمین گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے۔
اے این ایف کی بڑی کارروائی، طورخم بارڈر سے 22 کلوگرام منشیات اسمگلنگ ناکام
اسپتال پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جا رہا ہے اور روزانہ ایک ہزار سے زائد بچوں کو علاج و معالجہ فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم مالی بحران کے باعث انتظامیہ کے ہاتھ سے معاملات نکلتے جا رہے ہیں۔
ملازمین کے مطابق ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے کئی بار انتظامیہ کو آگاہ کیا مگر شنوائی نہیں ہوئی۔ اگر فوری طور پر واجبات کی ادائیگی نہ کی گئی تو اسپتال کی مکمل بندش کی جائے گی، جس سے معصوم بچوں کے علاج معالجے کا سلسلہ رکنے کا خدشہ ہے۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ فوری مداخلت کر کے ان کے مسائل حل کرے تاکہ اسپتال کا نظام اور مریضوں کا علاج متاثر نہ ہو۔
