میٹرک امتحانات اسکینڈل: تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ مکمل، چیئرمین کی برطرفی و کرمنل کارروائی کی سفارش

کراچی (05 مئی 2026) — کراچی میٹرک بورڈ کے امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے معاملے پر تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر لی ہے، جس میں متعدد اہم انکشافات اور سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

کراچی میں گرمی کی شدت میں کمی، پارہ 35 ڈگری تک گر گیا

ذرائع کے مطابق امتحانی نظام میں بے قاعدگیوں کے بعد چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سوہو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے انہیں معطل کرنے اور اینٹی کرپشن کے ذریعے مجرمانہ کارروائی کی سفارش کی تھی۔ معطلی کی صورت میں ان کی فیڈرل بورڈ میں واپسی بھی ممکن نہ ہوتی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ غلام حسین سوہو نے مبینہ طور پر معطلی سے بچنے اور اپنی ملازمت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے استعفیٰ دیا، جو انہوں نے سیکریٹری محکمہ بورڈز سندھ کو ارسال کیا ہے۔ استعفیٰ اب وزیر بورڈز کے ذریعے کنٹرولنگ اتھارٹی کو بھجوایا جائے گا، جبکہ حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ کریں گے کہ استعفیٰ منظور کیا جائے یا مزید کارروائی عمل میں لائی جائے۔

وزیر بورڈز اسماعیل راہو کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میٹرک امتحانات کے دوران 170 سے زائد امتحانی مراکز میں تبدیلیاں کی گئیں، جس میں مبینہ طور پر بورڈ انتظامیہ اور بعض ایجنٹس ملوث پائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق چیئرمین غلام حسین سوہو، ناظم امتحانات احمد خان چھٹو اور دیگر افسران پر امتحانی مراکز میں غیر قانونی تبدیلیوں کا الزام ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف ایجنٹس اور افراد نے مبینہ طور پر مراکز کی تبدیلی میں کردار ادا کیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ملوث تمام عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، انہیں معطل کیا جائے اور اینٹی کرپشن کے ذریعے کرمنل کارروائی شروع کی جائے۔ اس کے علاوہ سیکریٹری بورڈ اور دیگر ذمہ دار افسران کے خلاف بھی ضابطے کی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

وزیر بورڈز اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں پر کسی قسم کا دباؤ یا سفارش قبول نہیں کی جائے گی اور کارروائی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!