کراچی: صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت سندھ فوڈ اتھارٹی کا 12واں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ادارے کے انتظامی، قانونی اور آپریشنل امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سندھ اسمبلی کے اراکین فیاض علی بٹ، بیریسٹر ہالار وسان اور سعدیہ جاوید سمیت سیکریٹری خوراک، ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی، فوڈ سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین، فوڈ انڈسٹری سے وابستہ نمائندوں اور صارفین کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیلڈ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 30 نئی یوٹیلٹی وینز خریدنے کی تجویز پیش کی گئی، تاہم اس معاملے کو مزید غور کے لیے صوبائی کابینہ کی کفایت شعاری کمیٹی کو بھیجنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے دوران سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا، جن کا مقصد ادارے کے قانونی دائرہ کار کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا ہے۔
مزید برآں فوڈ پروڈکٹ رجسٹریشن اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو فعال اور جدید بنانے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا، جبکہ ملاوٹ شدہ اور غیر محفوظ خوراک کی تلفی کے قانونی اختیارات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی جو فوڈ رجسٹریشن اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
اس کے علاوہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے لائسنس فیس اسٹرکچر پر نظرثانی کی تجویز بھی اجلاس میں زیر غور آئی تاکہ نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
