اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری نہ رکھی جائے اور توانائی کے شعبے میں مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں۔
چین سے تصادم نہیں بلکہ بہتر تعلقات امریکا کے مفاد میں ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ابتدائی ورچوئل مشاورت جاری ہے، جس میں معاشی اہداف، ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبے سے متعلق اہم امور زیر بحث ہیں۔
آئی ایم ایف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مالی بوجھ اور گردشی قرضوں میں اضافے سے بچنے کے لیے ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔ فنڈ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بجلی اور توانائی کے نرخوں سے متعلق ریگولیٹری اداروں کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ مالیاتی خسارے کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی رعایتوں کو محدود رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے، سیلز ٹیکس استثنیٰ میں کمی اور سرکاری اخراجات کم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
آئی ایم ایف نے یہ بھی زور دیا ہے کہ پاکستان اپنی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں کم از کم ایک فیصد اضافہ کرے تاکہ محصولات میں بہتری لائی جا سکے اور معیشت کو زیادہ مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف پر اہم پیش رفت ہو رہی ہے، جبکہ عالمی معاشی حالات میں ممکنہ بہتری اور جاری اصلاحات کے باعث درمیانی مدت میں ملکی شرح نمو 5.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق توانائی شعبے میں اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری اور اخراجات میں کمی جیسے اقدامات پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
