واشنگٹن (05 مئی 2026) — امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے آبنائے ہرمز میں کمرشل شپنگ پر کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا خطے میں تجارتی بحری راستوں کی حفاظت کے لیے بھرپور کارروائی کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات پر حملوں کی شدید مذمت، جنگ بندی کے احترام اور مذاکرات پر زور
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کا یہ دعویٰ کہ اس کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے درست نہیں۔ ان کے مطابق اگر ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا تو اسے امریکی فائر پاور کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی ایرانی فضاؤں یا پانیوں میں مداخلت کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو کھلوانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے “پروجیکٹ فریڈم” کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا بنیادی ہدف تجارتی بحری راستوں کی بحالی ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے جاپان اور جنوبی کوریا سے بھی اپیل کی کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کی کوششوں میں امریکا کا ساتھ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر کیے جانے والے اقدامات بین الاقوامی تجارت کے لیے رکاوٹ ہیں اور انہیں “غیر قانونی بھتہ خوری” کے مترادف قرار دیا۔
اسی پریس کانفرنس میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف بڑی کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔
تاہم جنرل ڈین کین نے یہ بھی کہا کہ فی الحال صورتحال اس سطح تک نہیں پہنچی کہ باقاعدہ جنگ دوبارہ شروع کی جائے۔ ان کے مطابق “پروجیکٹ فریڈم” صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ توانائی اور تجارت سے وابستہ منڈیاں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
