کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کراچی زون نے کراچی سی پورٹ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سی مین بکس کے استعمال اور کلیئرنس میں بے ضابطگیوں پر جہاز کے عملے اور شپنگ کمپنی پر مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی کراچی پورٹ (KPT) پر ویسل MT AL-TARF کی کلیئرنس کے دوران کی گئی، جس میں متعدد انتظامی اور قانونی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ مذکورہ جہاز عمان کے شہر شناس سے تقریباً 3000 میٹرک ٹن بلیک کاربن آئل لے کر کراچی پہنچا تھا۔
تحقیقات کے دوران جہاز پر موجود 17 رکنی عملے میں 10 بنگلہ دیشی اور 7 بھارتی شہری شامل تھے۔ ایف آئی اے ٹیم نے چیکنگ کے دوران تین بنگلہ دیشی عملے کو بغیر درست اور قانونی سی مین بکس کے سفر کرتے ہوئے پایا۔
ترجمان کے مطابق متعلقہ عملے کے پاس نہ تو فلیگ اسٹیٹ کی جانب سے جاری کردہ درست دستاویزات موجود تھیں اور نہ ہی قومی سطح پر تسلیم شدہ سی مین بکس پیش کیے جا سکے۔ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ پیش کیے گئے بعض دستاویزات آئرلینڈ سے جاری کردہ غیر قانونی سی مین بکس تھے، جو آن لائن ٹریننگ کے بعد کورئیر کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی انکوائری میں انکشاف ہوا کہ یہ دستاویزات بین الاقوامی سمندری قوانین کے مطابق درست نہیں تھیں اور ان کا استعمال غیر قانونی طریقے سے کیا جا رہا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ جہاز کے ماسٹر کو آگاہ کرتے ہوئے فی کس 5 لاکھ روپے کے حساب سے جرمانہ عائد کیا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے شپنگ کمپنی کو بھی باقاعدہ نوٹس جاری کردیا ہے جبکہ جرمانے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق بندرگاہوں پر قانونی تقاضوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں اور نگرانی مزید سخت کردی گئی ہے۔
