کراچی: نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا) کراچی میں بنگلہ دیش کی سول سروس کے اعلیٰ افسران کے وفد کے اعزاز میں دو روزہ خصوصی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جسے دونوں ممالک کے درمیان طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کراچی پیرآباد میں نجی بینک میں ڈکیتی، مسلح ملزمان گارڈ سے اسلحہ چھین کر نقدی لوٹ کر فرار
یہ پروگرام نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور سول سروسز اکیڈمی لاہور کے اشتراک سے “اسٹریٹجک لیڈرشپ، گورننس سسٹمز اینڈ پالیسی انوویشن” کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پالیسی سازی، گورننس اور انتظامی تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
ڈی جی نیپا ڈاکٹر سید سیف الرحمان نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ادارے کا تفصیلی دورہ کرایا۔ اس موقع پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے قومی پرچم لہرائے گئے اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی پیش کیے گئے۔ وفد نے ادارے کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا جبکہ ماحولیاتی آگاہی کے فروغ کے لیے شجرکاری بھی کی گئی۔
ڈاکٹر سیف الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان خطے میں جدید اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپا جیسے ادارے محض تربیتی مراکز نہیں بلکہ فکری لیبارٹریوں کا کردار ادا کرتے ہیں جہاں مستقبل کے پالیسی ساز تیار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے تبادلہ پروگرامز افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور عوامی خدمت کے معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ترقی صرف معاشی اشاریوں تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی اقدار، قومی شناخت اور ادارہ جاتی مضبوطی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
معروف دانشور جاوید جبار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا خاندان طویل عرصے سے بنگالی ثقافت سے جڑا ہوا ہے اور ثقافتی ہم آہنگی دونوں ممالک کو مزید قریب لا سکتی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی سماجی ترقی، خواتین کی بااختیاری اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ میں پیش رفت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
بنگلہ دیشی وفد کے گروپ لیڈر ریحان اختر نے کہا کہ اس دورے کا مقصد پالیسی فہم کو بہتر بنانا اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے نیپا کے تربیتی نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو سمجھنے کے لیے اس کے اداروں اور ثقافت کو سمجھنا ضروری ہے۔
ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی فرحان علی خواجہ نے کہا کہ بیوروکریٹس معاشروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایسے پروگرامز سے نہ صرف صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ پائیدار ترقی کے نئے راستے بھی کھلتے ہیں۔
تقریب میں سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب پر بھی خصوصی سیشن منعقد کیا گیا جس میں گورننس، معاشی اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری کے پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اختتامی سیشن میں ڈی جی نیپا نے بنگلہ دیشی افسران میں شیلڈز اور تحائف تقسیم کیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔
