پاکستان کی مشرق وسطیٰ امن کے لیے فعال سفارتکاری

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فعال اور پرزور ٹیلیفونک سفارتکاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے قریبی رابطوں میں ہیں اور انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
پنجاب کے مالی سال 2026-27 کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے تجویز

رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے تہران، ریاض، ابوظبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز میں مختلف عالمی رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تاکہ تنازعات کے حل اور خطے میں استحکام کے لیے سہولت کاری کی جا سکے۔

امریکی اخبار نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلسل رابطوں کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈے فول نے اس حوالے سے کہا کہ ان کے معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ملاقات کی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات جلد متوقع ہے اور ممکنہ طور پر پاکستان میں ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات روشن ہوں گے۔

پاکستان کی یہ سفارتکاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر امن قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور بین الاقوامی قیادت کے درمیان اعتماد سازی کے لیے فعال اقدامات کر رہا ہے۔

One thought on “پاکستان کی مشرق وسطیٰ امن کے لیے فعال سفارتکاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!