بھارت اور ویتنام نے عوامی ریلیف کے لیے ایندھن پر ٹیکس میں کمی اور عارضی معطلی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا اور عوام پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
پاکستان کی مشرق وسطیٰ امن کے لیے فعال سفارتکاری
بھارتی وزیر خزانہ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے تاکہ صارفین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ بھارت میں اس فیصلے کے بعد شہریوں نے پمپس پر بڑی تعداد میں قطاریں لگائی، جس سے ملک میں ایندھن کی قلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث سپلائی متاثر ہوئی تھی۔
دوسری جانب ویتنام کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول پر ماحولیاتی اور خصوصی ٹیکس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام 15 اپریل تک مؤثر رہے گا اور اس سے شہریوں اور صنعتوں کو وقتی ریلیف ملے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی تناؤ کے پیش نظر بھارت اور ویتنام کے اقدامات صارفین اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش ہیں۔ حکومتیں توقع کر رہی ہیں کہ ٹیکس میں کمی اور معطلی سے ایندھن کی طلب و رسد میں توازن پیدا ہوگا اور شہریوں پر دباؤ کم ہوگا۔
یہ اقدامات عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے اور عوامی ریلیف کے لیے اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔
