پنجاب کے نئے مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی بجٹ کا ابتدائی حجم تیار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ترقیاتی بجٹ کا ابتدائی تخمینہ 1450 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جسے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) بورڈ نے نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے ابتدائی خاکے میں شامل کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کی ہتک عزت اپیل 31 مارچ کو مقرر کر دی
ذرائع نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ میں مجموعی طور پر 1824 اسکیمیں شامل ہیں، جن کی کل لاگت 2347 ارب روپے تجویز کی گئی ہے۔ ترجیحی منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 580 سے 780 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجیحی منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے تک بلاک ایلوکیشن رکھنے کی تجویز ہے، جس میں ٹرانسپورٹ سیکٹر سرفہرست ہے اور اس کے لیے 303 ارب روپے کی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ لاہور میں صاف پانی کے منصوبے، مثالی گاؤں، سڑکوں کی بحالی پروگرام اور دیگر ترقیاتی منصوبے بجٹ کا حصہ بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق، مثالی گاؤں کے منصوبے کے لیے 30 ارب، سڑکیں بحالی پروگرام کے لیے 42 ارب روپے، صاف پانی کے منصوبے کے لیے 25 ارب روپے، کنٹونمنٹ بورڈ کے لیے 7 ارب روپے جبکہ پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 200 سے 250 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس بجٹ کا مقصد صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، شہری سہولیات کی فراہمی اور ترجیحی ترقیاتی منصوبوں پر کام کو تیز کرنا ہے۔ حکومت پنجاب آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر زور دے گی۔
