مشرقی افریقا کے شمالی علاقے میں تارکین وطن سے بھری کشتی کو پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں کم از کم 9 افراد ہلاک جبکہ 45 لاپتہ ہوگئے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
خلیجی ممالک کی ایران کے حملوں کی شدید مذمت، فوری روکنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق یہ حادثہ 24 مارچ کو پیش آیا، جہاں ایک کشتی سمندر میں حادثے کا شکار ہوگئی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کشتی میں مجموعی طور پر 320 افراد سوار تھے، جن میں زیادہ تر کا تعلق ایتھوپیا سے بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ادارے کے مطابق حادثے کے بعد متعدد افراد کو بچا لیا گیا، تاہم اب بھی درجنوں افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی نے اس سانحے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی اور غیر محفوظ سمندری سفر تارکین وطن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور محفوظ ہجرت کے مواقع فراہم کرے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بہتر زندگی کی تلاش میں خطرناک راستے اختیار کرنے والے تارکین وطن کو سنگین خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
