کراچی: سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کنٹرولنگ اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیے جانے کے بعد امتحانی بورڈز کے انتظامی معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں، جس پر تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کا معرکۂ حق کی سالگرہ پر بڑا مظاہرہ، بھارت کو سخت پیغام
تفصیلات کے مطابق سندھ کابینہ کی جانب سے حالیہ فیصلے میں تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ کو منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ اختیارات وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے پاس تھے۔ اس تبدیلی کے بعد ناظم امتحانات، سیکریٹری بورڈ اور آڈٹ آفیسر کی نگرانی متعلقہ وزیر کے پاس برقرار ہے، تاہم چیئرمینز براہِ راست وزیر اعلیٰ سندھ کے ماتحت آ گئے ہیں۔
اس غیر معمولی انتظامی تقسیم کے بعد اب سندھ کے تعلیمی بورڈز بیک وقت دو مختلف اتھارٹیز کے زیرِ اثر ہیں، جس سے فیصلہ سازی، امتحانی پالیسی اور انتظامی ہم آہنگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تاحال اس فیصلے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن یا کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے نہیں آئے، تاہم تعلیمی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اگر متعلقہ وزیر کی کارکردگی پر اعتماد نہیں تو صرف چیئرمینز کی کنٹرولنگ کیوں تبدیل کی گئی جبکہ دیگر اہم عہدے بدستور انہی کے پاس ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سندھ کے کئی تعلیمی بورڈز، خصوصاً میٹرک بورڈ کراچی اور میرپورخاص بورڈ، پہلے ہی شدید انتظامی و امتحانی اسکینڈلز کی زد میں ہیں۔ میرپورخاص بورڈ کے ایک افسر پر امتحانی نتائج میں مبینہ رد و بدل کے الزامات سامنے آئے ہیں جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔
مزید یہ کہ بعض افسران کے خلاف رشوت اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات پر خطوط بھی جاری کیے گئے ہیں، جس کے بعد کچھ افسران عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کر چکے ہیں۔
ادھر میٹرک بورڈ کراچی میں بھی امتحانی نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جن میں سینٹر فکسنگ اور درجنوں امتحانی مراکز کی تبدیلی جیسے معاملات شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے ان انکشافات کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے اور اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق میٹرک بورڈ کراچی کے چیئرمین نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ امکان ہے کہ بورڈ کا اضافی چارج کسی سینئر بیوروکریٹ کو دیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کی اس دوہری تقسیم سے نہ صرف انتظامی ابہام پیدا ہوا ہے بلکہ امتحانی نظام کی شفافیت اور کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
