لاہور: معرکۂ حق کے دوران سامنے آنے والے نمایاں واقعات میں بھارتی روسی ساختہ جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ایس-400 کی مبینہ تباہی کا دعویٰ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اس اہم عسکری ہدف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے شواہد بھی پیش کیے گئے، تاہم بھارتی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
چین اور برازیل میں معرکۂ حق کی سالگرہ پر پاکستانی سفارتخانوں میں خصوصی تقریبات
تفصیلات کے مطابق بھارت کو اپنے جدید رافیل طیاروں اور ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم پر غیر معمولی اعتماد حاصل تھا، جسے دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نظام کی صلاحیت کے حوالے سے بھارتی حلقوں کا دعویٰ تھا کہ یہ بیک وقت متعدد کروز اور بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
معرکۂ حق کے دوران پاکستانی مؤقف کے مطابق متعدد اہداف کے ساتھ ایس-400 سسٹم کے ایک اہم حصے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد بھارت کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں تبدیلی کرنا پڑی۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ادھم پور ایئر بیس کے قریب کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم متاثر ہوا، جس کے بعد بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں میں مختلف بیانات سامنے آئے۔ کچھ رپورٹس میں ایک اہلکار کی ہلاکت کا ذکر بھی کیا گیا، تاہم بھارتی حکام نے ان دعوؤں پر مختلف وضاحتیں پیش کیں۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے بعد خطے میں دفاعی توازن اور جنگی حکمتِ عملی پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے، جبکہ اس واقعے کو معرکۂ حق کے اہم ترین دفاعی پہلوؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکام ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں، تاہم مختلف بین الاقوامی میڈیا حلقے اس حوالے سے متضاد رپورٹس بھی سامنے لاتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگی حالات میں معلوماتی جنگ اور بیانیے کی جنگ بھی عملی جنگ کی طرح اہمیت اختیار کر چکی ہے، جس میں دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف کو مضبوط انداز میں پیش کرتے ہیں۔
