خلیجی اور عرب ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
راحت فتح علی خان کو برطانوی پارلیمنٹ میں اعزاز، بیٹے سمیت ایوارڈ حاصل
مشترکہ بیان میں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، سعودی عرب، قطر اور اردن نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے حملے، چاہے براہ راست ہوں یا پراکسی گروپس کے ذریعے، کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران فوری اور غیر مشروط طور پر نہ صرف حملے بند کرے بلکہ پراکسیز کے استعمال اور دھمکیوں کی پالیسی کو بھی ترک کرے۔ ان ممالک نے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، اور وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے، تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔
