لاہور ہائیکورٹ سے میشا شفیع کو جزوی ریلیف، 50 لاکھ ہرجانے کی رقم علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل

Meesha Shafi کو Ali Zafar کے ہتکِ عزت کیس میں لاہور ہائیکورٹ سے جزوی ریلیف مل گیا۔ عدالت نے 50 لاکھ روپے ہرجانے کی رقم فوری طور پر علی ظفر کو ادا کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔
امریکا زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، آبنائے ہرمز کی کشیدگی امریکی جارحیت کا نتیجہ ہے، ایران

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے حکم دیا کہ ہرجانے کی رقم کا نصف حصہ نقد صورت میں عدالت میں جمع کروایا جائے جبکہ باقی آدھی رقم کی شورٹی جمع کرانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

عدالت نے میشا شفیع کی درخواست پر علی ظفر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، تاہم میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے ٹرائل کورٹ کا مکمل فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں میشا شفیع کو دوبارہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے سے روکا ہے اور اس حصے کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کسی کو بغیر ثبوت جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یاد رہے کہ سیشن کورٹ لاہور نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ مقدمہ علی ظفر کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد دائر کیے گئے 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت دعوے سے متعلق تھا۔

یہ کیس پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے سب سے زیادہ زیرِ بحث قانونی تنازعات میں شمار کیا جاتا ہے، جس پر عوامی اور قانونی حلقوں کی گہری نظر برقرار ہے۔

One thought on “لاہور ہائیکورٹ سے میشا شفیع کو جزوی ریلیف، 50 لاکھ ہرجانے کی رقم علی ظفر کو دینے کا فیصلہ معطل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!