امریکا زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، آبنائے ہرمز کی کشیدگی امریکی جارحیت کا نتیجہ ہے، ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے اپنے “زیادہ سے زیادہ مطالبات” سے دستبردار ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی حالیہ کشیدہ صورتحال ایران کے خلاف امریکی جارحیت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
علاقائی کشیدگی کے باوجود دبئی ایئرپورٹ پر 60 لاکھ مسافروں کی آمد و رفت

میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سست سفارتی کوششوں کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جارحیت سے قبل آبنائے ہرمز عالمی میری ٹائم نیوی گیشن کے لیے ایک محفوظ گزرگاہ تھی، تاہم موجودہ کشیدگی نے خطے میں سکیورٹی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستیں اور شپنگ کمپنیاں اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے گئے ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا نے نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ بین الاقوامی پانیوں میں بھی عدم استحکام اور سکیورٹی کے فقدان کو جنم دیا ہے، جبکہ ایران خطے میں سلامتی اور سکون کا محافظ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمان اور ایران آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں، اس لیے محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ پروٹوکول اور مؤثر مکینزم تشکیل دینا ضروری ہے۔

امریکی جنگی جہازوں کے آبنائے ہرمز میں داخلے کے امکان سے متعلق سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کے امریکی خطرات کا جواب دینا جانتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس وقت صرف جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت پر توجہ دے رہا ہے۔

انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جھوٹے الزامات دہرانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

One thought on “امریکا زیادہ سے زیادہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، آبنائے ہرمز کی کشیدگی امریکی جارحیت کا نتیجہ ہے، ایران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!