کراچی: ڈپٹی کمشنر جنوبی نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کو اپنا جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے آگ لگنے کے فوری بعد ضروری انتظامی اور لاجسٹک سہولتیں فراہم کیں اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
ایم کیو ایم پاکستان کا وزیراعظم سے مطالبہ: گورنر سندھ کا فیصلہ واپس لیں
جواب میں بتایا گیا کہ ایمرجنسی کنٹرول روم اور وائرلیس کوآرڈینیشن سسٹم کے ذریعے ضلعی انتظامیہ کو آگ لگنے کی اطلاع صبح 10:27 منٹ پر موصول ہوئی۔ ڈی سی جنوبی اور اسسٹنٹ کمشنر گارڈن ڈویژن نے فوری طور پر انتظامیہ کو متحرک کیا اور 10 بج کر 31 منٹ پر خود جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تاکہ اداروں کے درمیان رابطے اور ہنگامی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنے جواب میں بتایا کہ انہوں نے ریسکیو اداروں کے ساتھ فوری رابطے قائم کیے، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر قائم کیا اور متاثرہ افراد کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور کے ایم سی کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ذریعے ریسکیو ٹیم کی رسائی ممکن بنائی گئی۔
جواب میں مزید کہا گیا کہ گل پلازہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ہے، جو کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جبکہ پلازہ کے اطراف کی اندرونی سڑکیں ٹی ایم سی صدر کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ گرین لائن منصوبے کے باعث ایم اے جناح روڈ کی مؤثر چوڑائی کم ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے رش کے اوقات میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔ تاہم ٹریفک پولیس نے فوری طور پر راستے صاف کیے تاکہ ہنگامی گاڑیاں بلا رکاوٹ پہنچ سکیں، جن میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔
ڈی سی جنوبی نے کہا کہ مارٹن روڈ کو رمپا پلازہ سائیڈ سے بند کیا گیا اور انکل سریا اسپتال کی جانب رسائی محدود رکھی گئی تاکہ آپریشنل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، ضلعی پولیس نے جائے وقوعہ پر ہجوم کو کنٹرول کیا تاکہ ریسکیو عملے کی کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ گل پلازہ کی ساخت، بلڈنگ پلان کی منظوری اور ضابطہ جاتی پابندیاں متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ ضلع جنوبی میں کمرشل عمارتوں، شاپنگ مالز اور بلند عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹس اور معائنے کیے جاتے ہیں تاکہ قوانین کی پابندی اور ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی جا سکے۔
