جامعہ این ای ڈی میں کشمیر کے چیلنجز پر سیمینار، طالب علموں اور ماہرین نے اظہارِ خیال کیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) — جامعہ این ای ڈی کے شعبہ ڈائریکٹوریٹ آف یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ اینڈ فنانشل اسسٹنس (یوفا) کے تحت کشمیر کو درپیش چیلنجز کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

اے این ایف کا ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 ملزمان گرفتار

استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر یوفا، ڈاکٹر محمد عامر قریشی نے کہا کہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جاتے رہے اور دنیا صرف دیکھتی رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانیت کا ہونا اور اسے سپورٹ کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے، اور کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں ان کی عظمت کو سلام پیش کرنا چاہیے۔

این ای ڈی سے وابستہ کشمیری طالب علم حسنین طاہر نے کہا کہ ہر کشمیری طالب علم کو وہی تعلیمی سہولتیں حاصل ہونی چاہئیں جو ان کے پاس ہیں۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو انسانی المیے سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس مسئلے کو ایک ماں کی آنکھ سے دیکھنا چاہیے جس کا جوان بیٹا شہید کیا گیا ہو۔

اسسٹنٹ پروفیسر بحریہ یونیورسٹی ڈاکٹر سدرہ خان نے خطاب میں کہا کہ وہ کشمیری ہونے کے ناطے جذبات کے ذریعے اپنی بات کریں گی اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کشمیر سے مشروط ہے۔

ائیر وائس مارشل (ر) ڈاکٹر عابد راؤ نے کہا کہ 1965 کی جنگ کا بدلہ بھارت نے 1971 میں لیا اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا، جبکہ کارگل کی جنگ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود مسائل پیدا کیے جو اگلے سو سال بھی حل ہوتے نظر نہیں آتے۔

ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ ڈاکٹر جعفر احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ردعمل کی بجائے عمل کی پالیسی اپنائیں، کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اس کے متعلقہ جہتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا جین زی نسل سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات تک رسائی رکھتی ہے، جو پہلے ممکن نہیں تھی۔

اختتامی کلمات میں پرووائس چانسلر ڈاکٹر نعمان احمد نے کہا کہ نوجوانوں کو مطالعہ کو وسیع کرنا چاہیے تاکہ وہ کشمیر کو درپیش چیلنجز کو بہتر سمجھ سکیں۔

یومِ کشمیر کی مناسبت سے مضمون نگاری کے مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے نام محمد تحسین آفتاب، فاطمہ مظہر اور ہانیہ عدنان صدیقی رہے، جیسا کہ جامعہ این ای ڈی کی ترجمان فرواحسن نے بتایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!