پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے سیاسی، معاشی، دفاعی اور عوامی روابط بڑھانے پر باضابطہ اتفاق ہو گیا ہے۔ صدرِ قازقستان قاسم جومارت توقایووف کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران پاک قازقستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔
ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔ یہ قازقستان کے کسی صدر کا گزشتہ 23 برس بعد پہلا سرکاری دورۂ پاکستان ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان قازقستان بزنس فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کیا گیا اور نجی شعبے کے روابط بڑھانے پر زور دیا گیا۔ علاقائی رابطہ کاری، ٹرانسپورٹ، ٹرانزٹ ٹریڈ اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان پانچ سالہ دوطرفہ تجارتی روڈ میپ کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قازق صدر کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں تاریخی پیش رفت قرار دیا۔
مزید برآں تعلیم، ثقافت، سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 37 ایم او یوز اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے جبکہ ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
