کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور رکن صوبائی اسمبلی سندھ طٰحہ احمد خان نے گل پلازہ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے سانحے سے متاثرہ دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس ریلیف کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
وزیر محنت سندھ سعید غنی کا سانحہ گل پلازہ کے جاں بحق کاشف محمد یونس کے اہلِ خانہ سے تعزیت
طٰحہ احمد خان نے 29 جنوری 2026 کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کے نام ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ گل پلازہ سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ سینکڑوں دکانداروں کا سامان، کاروباری ریکارڈ اور روزگار کا واحد ذریعہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے باعث درجنوں خاندان شدید معاشی بحران سے دوچار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ نہ صرف کراچی بلکہ پوری کاروباری برادری کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔ متاثرہ افراد شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی صدمے کا شکار ہیں جبکہ معاشی حالات انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجر طویل عرصے سے باقاعدہ، قانون پسند اور ذمہ دار ٹیکس دہندگان رہے ہیں جنہوں نے ہمیشہ قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکس دینے والا شہر ہے اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں کے تاجر ہر مشکل وقت میں ریاست کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔
طٰحہ احمد خان کے مطابق اس غیر معمولی سانحے میں ہونے والے شدید مالی نقصانات کے باعث متاثرہ دکاندار وقتی طور پر اپنے ٹیکس واجبات ادا کرنے کے قابل نہیں رہے، جو ایک فطری اور ناگزیر صورتحال ہے۔
خط میں گل پلازہ کے واقعے کو ایک غیر متوقع ناگہانی آفت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حادثہ متاثرہ تاجروں کے اختیار سے مکمل طور پر باہر تھا، لہٰذا اس صورتحال میں خصوصی اور ہمدردانہ مالی ریلیف ناگزیر ہے تاکہ مستقل کاروباری بندش، بے روزگاری اور طویل معاشی بحران سے بچا جا سکے۔
رکن سندھ اسمبلی نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ دکانداروں کو ٹیکس سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی ٹیکسوں میں چھوٹ یا مناسب رعایت دی جائے، جبکہ جرمانوں، سرچارجز اور ڈیفالٹ اضافوں کو بھی معاف کیا جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ متعلقہ قوانین کے تحت خصوصی نوٹیفکیشن یا ایس آر او جاری کیا جائے تاکہ متاثرہ تاجر دوبارہ اپنے کاروبار بحال کر سکیں اور اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں۔
طٰحہ احمد خان نے امید ظاہر کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس سنگین انسانی المیے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمدردانہ اور مثبت فیصلہ کرے گا، تاکہ گل پلازہ کے متاثرین کو ریلیف مل سکے اور کراچی کی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
