سندھ بھر میں فصلی باقیات جلانے پر پابندی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی: ڈی جی سیپا

کراچی: سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) نے صوبے بھر میں فصل کی کٹائی کے بعد باقیات جلانے پر پابندی سے متعلق باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل سیپا وقار پھلپوٹو کے مطابق کسی بھی فصل کی کٹائی کے بعد باقیات، کھوری یا اسٹبل جلانا قانوناً ممنوع ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ملاقات، مکمل تعاون کی یقین دہانی

ڈی جی سیپا نے بتایا کہ اس پابندی سے متعلق عوامی اعلانات کا آغاز کر دیا گیا ہے کیونکہ فصلی باقیات جلانے سے شدید فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے جو انسانی صحت، ماحولیاتی توازن، زرعی زمین اور مفید کیڑوں کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔

وقار پھلپوٹو نے واضح کیا کہ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے تحت فصلوں کی باقیات جلانا قابلِ سزا جرم ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف صوبے بھر میں بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نے زمینداروں اور کاشتکاروں سے اپیل کی کہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے ماحول دوست طریقے اپنائیں۔ جدید زرعی مشینری کے ذریعے باقیات کو کاٹ کر زمین میں شامل کیا جائے، مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جائے یا ایندھن کے طور پر ذخیرہ کیا جائے۔

ڈی جی سیپا کے مطابق فصلی باقیات کو سرد موسم میں فصلوں اور باغات کو ٹھنڈ سے بچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات پر عمل کر کے کاشتکار صاف فضا، آلودگی سے پاک ماحول اور صحت مند سندھ کے قیام میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

67 / 100 SEO Score

2 thoughts on “سندھ بھر میں فصلی باقیات جلانے پر پابندی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی: ڈی جی سیپا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!