کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، جہاں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (BS-17) مشتاق جمیل درانی نے عمارتوں کے اپروول میپ کی فائلوں میں غیر قانونی کارروائیوں کے ذریعے بھاری رشوت وصول کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتاق جمیل درانی نے نہ صرف لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کی رقم لے کر بلڈنگ میپس اور کمرشل فائلیں منظور کروائیں۔
پاک فوج کی قیادت کا قائداعظم کے یوم پیدائش پر خصوصی پیغام، کرسمس پر مسیحی برادری کو مبارکباد
ذرائع کے مطابق، کمرشل پلاٹس کے بلڈنگ اپروول کے لیے بھی کروڑوں روپے کی رشوت لی جاتی رہی، اور اس عمل کے دوران سندھ حکومت کو، ٹیکسز کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ مشتاق جمیل درانی نے تین مہینوں کے دوران جو بلڈنگ میپ منظور کروائے، ان کے ذریعے انہوں نے کروڑوں روپے کی کمائی کی۔
معلومات کے مطابق، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کو بھی اس پورے کرپشن نیٹ ورک کا علم نہیں تھا۔ مشتاق جمیل درانی نے SBCA میں اربوں روپے کی کرپشن کی اور پھر اپنی ذاتی مصروفیات کے بہانے پوسٹنگ سے ہٹ گئے۔
18 دسمبر 2025 کو مشتاق جمیل درانی کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پبلک سیل، ایڈورٹائزمنٹ اینڈ کمپلینٹس) کے عہدے سے ہٹا کر ایڈمنسٹریشن سیکشن منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، مشتاق جمیل درانی کی ریٹائرمنٹ میں صرف چھ ماہ باقی تھے اور اب وہ اپنی کمائی لے کر گھر جا چکے ہیں۔
ماضی میں بھی مشتاق جمیل درانی کو سسٹم میں کرپٹ افسر کے طور پر جانا جاتا رہا اور ساتھی افسران انہیں “بھائی جان” کے نام سے پکارتے تھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، اینٹی کرپشن سندھ اور نیب کراچی اس سنگین کرپشن کے معاملے میں کب اور کیا کارروائی کرتے ہیں۔

